أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ، عَلَى أَنْ يُوَحَّدَ اللهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَصِيَامِ رَمَضَانَ، وَالْحَجِّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، وَزَادَ فِيهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: الْحَجُّ وَصِيَامُ رَمَضَانَ، قَالَ: لَا، " صِيَامُ رَمَضَانَ وَالْحَجُّ " هَكَذَا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر رکھ دی گئی۔ اللہ کو ایک ماننا اور نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور حج کرنا۔“
(امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں محمد بن عبداللہ بن عمیر سے نقل کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ایک آدمی نے کہا: حج اور رمضان کے روزے بھی؟ تو انہوں نے کہا: ”نہیں بلکہ رمضان کے روزے اور حج۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے سنا ہے۔“)
(امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں محمد بن عبداللہ بن عمیر سے نقل کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ ایک آدمی نے کہا: حج اور رمضان کے روزے بھی؟ تو انہوں نے کہا: ”نہیں بلکہ رمضان کے روزے اور حج۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسے سنا ہے۔“)
أَخْبَرَنَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ حَجَّاجٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، فَذَكَرَهُ بِزِيَادَتِهِ.
حافظ ثناء اللہ
مسلم بن حجاج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محمد بن عبداللہ بن نمیر رحمہ اللہ نے کچھ اضافے کے ساتھ اس حدیث کا تذکرہ کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ الْبَيَاضِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْجَزَرِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضُّبَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ لِي جَرَّةَ نَبِيذٍ حُلْوٍ فَأَشْرَبُهُ فَإِذَا أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ فَأَطَلْتُ الْمَجْلِسَ خِفْتُ أَنْ أَنْتَضِحَ، فَقَالَ لِي: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرِ الْخَزَايَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ: " آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ، وَتَحُجُّوا الْبَيْتَ الْحَرَامَ " قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: " وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرے پاس میٹھی نبیذ کا ایک مٹکا ہے جسے میں پیتا ہوں، جب میں اس میں سے زیادہ پی لیتا ہوں اور لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہوں اور مجلس لمبی ہو جاتی ہے تو مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میں رسوا ہو جاؤں گا۔ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: وفدِ عبدالقیس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس وفد کو خوش آمدید جو رسوا نہیں ہوا“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر کا قبیلہ ہے اس لیے ہم حرمت والے مہینے کے علاوہ آپ ﷺ کے پاس نہیں آسکتے، سو آپ ﷺ ہمیں ایسے امر کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور جو ہمارے پیچھے ہیں ان کو ہم اس کی دعوت دیں“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایمان کا حکم دیتا ہوں، تم جانتے ہو ایمان کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا“۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور غنائم میں سے خمس دینا اور میں تمہیں مٹکے میں شراب پینے سے منع کرتا ہوں اور کدو میں اور تار کول لگے کے برتن میں اور لکڑی کے برتن میں“۔