❮
❯
حدیث نمبر: 7893
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ الْبَيَاضِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْجَزَرِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو زَيْدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ نَصْرِ بْنِ عِمْرَانَ الضُّبَعِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ لِي جَرَّةَ نَبِيذٍ حُلْوٍ فَأَشْرَبُهُ فَإِذَا أَكْثَرْتُ مِنْهُ فَجَالَسْتُ الْقَوْمَ فَأَطَلْتُ الْمَجْلِسَ خِفْتُ أَنْ أَنْتَضِحَ، فَقَالَ لِي: قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرِ الْخَزَايَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلَّا فِي شَهْرٍ حَرَامٍ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَعْمَلُ بِهِ وَنَدْعُو إِلَيْهِ مَنْ وَرَاءَنَا قَالَ: " آمُرُكُمْ بِالْإِيمَانِ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ؟ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، وَأَنْ تُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ، وَتَحُجُّوا الْبَيْتَ الْحَرَامَ " قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: " وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْجَرِّ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ.
حافظ ثناء اللہ

ابوجمرہ نصر بن عمران ضبعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میرے پاس میٹھی نبیذ کا ایک مٹکا ہے جسے میں پیتا ہوں، جب میں اس میں سے زیادہ پی لیتا ہوں اور لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہوں اور مجلس لمبی ہو جاتی ہے تو مجھے ڈر ہوتا ہے کہ میں رسوا ہو جاؤں گا۔ تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: وفدِ عبدالقیس آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس وفد کو خوش آمدید جو رسوا نہیں ہوا“، انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہمارے اور آپ کے درمیان کفارِ مضر کا قبیلہ ہے اس لیے ہم حرمت والے مہینے کے علاوہ آپ ﷺ کے پاس نہیں آسکتے، سو آپ ﷺ ہمیں ایسے امر کا حکم دیں جس پر ہم عمل کریں اور جو ہمارے پیچھے ہیں ان کو ہم اس کی دعوت دیں“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ایمان کا حکم دیتا ہوں، تم جانتے ہو ایمان کیا ہے؟ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تم نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا اور رمضان کے روزے رکھنا اور بیت اللہ کا حج کرنا“۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور غنائم میں سے خمس دینا اور میں تمہیں مٹکے میں شراب پینے سے منع کرتا ہوں اور کدو میں اور تار کول لگے کے برتن میں اور لکڑی کے برتن میں“۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصيام / حدیث: 7893
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»