کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: روزوں کی ابتدا کے متعلق جو کہا گیا، یہاں تک کہ وہ ماہِ رمضان کے روزے کی فرضیت کے ذریعے منسوخ ہو گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ يَعْنِي الْحَافِظَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُفَيْرٍ، ثنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيَّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، ثنا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: " أُحِيلَ الصَّوْمُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَحْوَالٍ: قَدِمَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ وَلَا عَهْدَ لَهُمْ بِالصِّيَامِ، فَكَانُوا يَصُومُونَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ حَتَّى نَزَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ فَاسْتَكْثَرُوا ذَلِكَ وَشَقَّ عَلَيْهِمْ، فَكَانَ مَنْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا كُلَّ يَوْمٍ تَرَكَ الصِّيَامَ مِمَنْ يُطِيقُهُ رَخَّصَ لَهُمْ فِي ذَلِكَ وَنَسَخَهُ {وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة: ١٨٤] " قَالَ: فَأُمِرُوا بِالصِّيَامِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ فَذَكَرَ بَعْضَ مَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابو لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمیں اصحابِ محمد ﷺ نے حدیث بیان کی کہ ماہِ صیام تین وجوہ پر فرض کیا گیا۔ لوگ مدینہ آئے تھے اور ان کے لیے کوئی فرض روزہ نہیں تھا۔ سو وہ تین دن کے روزے ہر ماہ رکھا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ فرض ہو گیا تو انہوں نے اسے زیادہ جانا اور ان پر گراں گزرا۔ جو روزانہ کا مسکین کو کھانا کھلانے کی طاقت رکھتا وہ کھلاتا اور روزہ نہ رکھتا۔ اس میں ان کو رخصت دی گئی تھی، پھر اسے اس آیت ﴿وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ [سورة البقرة: 184] نے منسوخ کر دیا۔ راوی کہتے ہیں: سو وہ روزہ رکھنے کا حکم دے دیے گئے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " أُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَأَمَّا حَوْلُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ بَعْدَمَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَصَامَ عَاشُورَاءَ فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا شَهْرَ رَبِيعٍ إِلَى شَهْرِ رَبِيعٍ إِلَى رَمَضَانَ، ثُمَّ إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَرَضَ عَلَيْهِ شَهْرَ رَمَضَانَ، فَأَنْزَلَ عَلَيْهِ {كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ} [البقرة: ١٨٣] " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ، هَذَا مُرْسَلٌ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین حالتوں میں رمضان فرض ہوا، پھر پوری حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: روزے کی کیفیت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینے آنے کے بعد روزہ رکھا، پھر آپ ﷺ نے ہر ماہ تین روزے رکھنے شروع کر دیے اور عاشور کا روزہ بھی رکھا اور اس طرح سترہ مہینے روزے رکھے، ربیع کے مہینے سے ربیع کے مہینے تک، رمضان تک۔ پھر اللہ نے ان پر رمضان کا مہینہ فرض کر دیا اور یہ حکم نازل فرمایا: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ﴾ [سورة البقرة: 183] کہ ”تم پر روزے فرض کیے جیسے پہلے لوگوں میں فرض کیے گئے تھے“۔
یہ روایت مرسل ہے، عبدالرحمن (بن ابی لیلیٰ) نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
یہ روایت مرسل ہے، عبدالرحمن (بن ابی لیلیٰ) نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔