کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جس نے روزے کی حالت میں صبح کی، جنازے کے پیچھے چلا، مسکین کو کھانا کھلایا اور مریض کی عیادت کی۔
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَخْرَمُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: " فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جِنَازَةً؟ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: " فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: " فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے جنازے کی اتباع کی ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھلایا ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے تیمارداری کی ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں جمع ہوں گی یہ سب کسی مسلمان میں مگر وہ جنت میں داخل ہوگا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7830
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْفَامِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الطَّائِيُّ، ثنا ابْنُ الْمُصَفَّى، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " بَاكِرُوا بِالصَّدَقَةِ؛ فَإِنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتَخَطَّى الصَّدَقَةَ " مَوْقُوفٌ، وَكَانَ فِي كِتَابِ شَيْخِنَا أَبِي نَصْرٍ الْفَامِيِّ مَرْفُوعًا، وَهُوَ وَهْمٌ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ الْقَاضِي، عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”صدقہ و خیرات میں جلدی کر، یقیناً مصائب صدقات کو نہیں روندتے۔“
یہ روایت موقوف ہے، ہمارے شیخ ابونصر فامی کی کتاب میں یہ مرفوع تھی اور یہ وہم (غلطی) ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7831
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»