کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: صدقہ کی مختلف صورتوں کا بیان، اور یہ کہ ہر روز انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ لازم ہے۔
حدیث نمبر: 7820
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ سُلَامَى مِنَ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ عَلَيْهِ الشَّمْسُ " قَالَ: " مَا تَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ، وَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا، أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ نَصْرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انسان کے ہر جوڑ پر روزانہ صدقہ واجب ہوتا ہے جس میں سورج طلوع ہوتا ہے“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، آدمی کی سواری میں اس کی مدد کرنا صدقہ ہے، کسی کو اپنی سواری پر سوار کرنا یا اس پر اس کا سامان رکھوانا صدقہ ہے، اچھی بات کرنا صدقہ ہے، ہر وہ قدم جو مسجد کی طرف چلتا ہے صدقہ ہے اور راستے سے تکلیف دہ چیز کا دور ہٹانا صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7820
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 7821
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مَحْمَوَيْهِ الْعَسْكَرِيُّ بِالْبَصْرَةِ سَنَةَ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ وَثَلَاثَمِائَةٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَلَانْسِيُّ، ثنا آدَمُ، ثنا شُعْبَةُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ صَدَقَةٌ ". قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، قَالَ: " فَيَعْمَلُ بِيَدِهِ فَيَنْفَعُ نَفْسَهُ وَيَتَصَدَّقُ "، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، أَوْ لَمْ يَفْعَلْ، قَالَ: " فَيُعِينُ ذَا الْحَاجَةِ الْمَلْهُوفَ "، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، قَالَ: " فَيَأْمُرُ بِالْخَيْرِ، أَوْ قَالَ: بِالْمَعْرُوفِ "، قَالُوا: فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، قَالَ: " فَلْيُمْسِكْ عَنِ الشَّرِّ فَإِنَّهُ لَهُ صَدَقَةٌ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ بْنِ أَبِي إِيَاسٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی بردہ رضی اللہ عنہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر مسلمان پر صدقہ ہے۔“ انھوں نے کہا: اگر وہ نہ دے پائے تو ”اپنے ہاتھ سے کام کرے اور اپنے آپ کو فائدہ پہنچائے اور صدقہ کرے۔“ انھوں نے کہا: اگر وہ اس کی بھی طاقت نہیں رکھتا یا ایسا نہیں کر پاتا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر انتہائی ضرورت مند کی مدد کرے۔“ انھوں نے کہا: اگر ایسا بھی نہیں کرتا تو فرمایا: ”پھر وہ بھلائی کا حکم دے۔“ انھوں نے کہا: اگر وہ ایسا بھی نہیں کر سکتا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر وہ بُرائی سے باز آ جائے، یقیناً وہی اس کے لیے صدقہ ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7821
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 7822
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عِيسَى، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ أَخِيهِ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ فَرُّوخَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ خُلِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ مِنْ بَنِي آدَمَ عَلَى سِتِّينَ وَثَلَاثِمِائَةِ مَفْصِلٍ، فَمَنْ كَبَّرَ اللهَ، وَحَمِدَ اللهَ، وَهَلَّلَ اللهَ، وَسَبَّحَ اللهَ، وَاسْتَغْفَرَ اللهَ، وَعَزَلَ حَجَرًا عَنْ طَرِيقِ ⦗٣١٦⦘ النَّاسِ، أَوْ عَزَلَ شَوْكَةً عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، أَوْ أَمَرَ بِمَعْرُوفٍ، أَوْ نَهَى عَنْ مُنْكَرٍ عَدَدَ تِلْكَ السِّتِّينَ وَثَلَاثِ مِائَةِ السُّلَامَى فَإِنَّهُ يُمْسِي يَوْمَئِذٍ وَقَدْ زَحْزَحَ نَفْسَهُ عَنِ النَّارِ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيِّ، عَنْ أَبِي تَوْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک ہر انسان آدم کی اولاد میں سے ہے، اس کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں، جس نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ کی بڑائی بیان کی“ اور «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اس کی حمد اور ثناء بیان کی“ اور «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ کہا“ اور «أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ» ”اللہ سے استغفار کیا“ اور لوگوں کے راستے سے پتھر یا کانٹے کو ہٹایا یا نیکی کا حکم دیا یا برائی سے منع کیا، یہ تین سو ساٹھ جوڑوں کا صدقہ کرنے کے برابر ہو گا، سو وہ اس دن شام کرے گا تو اس حالت میں کہ اس نے اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے بچا لیا ہو گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7822
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
حدیث نمبر: 7823
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا وَاصِلٌ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيَذْهَبُ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأَجْرِ، يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ، قَالَ: " أَوَ لَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ، إِنَّ كُلَّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلَّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلَّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ، وَكُلَّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ، وَأَمْرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: " أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي الْحَرَامِ، أَكَانَ عَلَيْهِ فِيهَا وِزْرٌ؟ " قَالُوا: بَلَى، قَالَ: " كَذَلِكَ إِذَا هُوَ وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ كَانَ لَهُ أَجْرٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے بعض صحابہ نے آپ ﷺ سے کہا: مال والے ہم سے اجر میں سبقت لے گئے ہیں کیونکہ جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں، جیسے ہم روزہ رکھتے ہیں وہ بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ اپنے اضافی مال سے صدقہ کرتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اللہ نے تمہارے لیے نہیں بنایا جس کا تم صدقہ کرو، وہ یہ ہے کہ ہر تسبیح کہنا صدقہ ہے اور ہر تکبیر بھی صدقہ ہے، ہر تحلیل و تحمید صدقہ ہے اور نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور تم میں سے ایک کی شرمگاہ میں بھی صدقہ ہے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم میں سے کوئی اپنی شہوت کو پورا کرنے کے لیے آتا ہے تو کیا یہ صدقہ ہے اور اس کے لیے اجر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ اسے حرام جگہ میں رکھے تو کیا اس کے لیے گناہ نہیں؟“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ایسے ہی حلال جگہ میں رکھے گا تو اس کے لیے اجر ہوگا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7823
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
حدیث نمبر: 7824
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ، لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَلَوْ أَنْ تَأْتِيَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ مُنْبَسِطٍ، وَلَوْ أَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَاءِ الْمُسْتَسْقِي، وَإِذَا طَبَخْتَ قِدْرًا فَأَكْثِرْ مَرَقَتَهَا، وَاغْرِفْ لِجِيرَانِكَ مِنْهَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ» ”ہر نیکی صدقہ ہے۔“ اور ابوداود کی روایت میں ہے، انہوں نے کہا کہ تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا۔
اسے مسلم نے صحیح میں قتیبہ سے روایت کیا ہے اور اسے بخاری نے ابن منکدر کی جابر رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث سے نکالا ہے۔
[صحیح۔ اسے مسلم نے نکالا ہے]
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7824
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه مسلم»
حدیث نمبر: 7825
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: قَالَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ.
حافظ ثناء اللہ
(ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے فرمایا: یہ تمہارے نبی ﷺ نے فرمایا ہے۔)
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7825
حدیث نمبر: 7826
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلٍ الْقَطَّانُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ حَفَدَةُ عَلِيِّ بْنِ حَرْبٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ أَتَاهُ اللهُ قُرْآنًا فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيٍّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سالم رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حسد جائز نہیں مگر دو میں: ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن دیا وہ اس کے ساتھ رات کی گھڑیوں میں قیام کرتا ہے اور دن میں، دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ دن اور رات کی گھڑیوں میں اسے خرچ کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7826
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 7827
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَ: أنبأ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعُوفِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ، رَجُلٌ عَلَّمَهُ اللهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَسَمِعَهُ جَارٌ لَهُ، فَقَالَ لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ، فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَهُوَ يُهْلِكُهُ فِي الْحَقِّ، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا لَيْتَنِي أُوتِيتُ مِثْلَ الَّذِي أُوتِيَ فُلَانٌ، فَعَمِلْتُ مِثْلَ مَا يَعْمَلُ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو شخصوں کے سوا کسی کے ساتھ حسد جائز نہیں: ایک وہ شخص جسے اللہ نے قرآن سکھایا، وہ اسے رات اور دن کی گھڑیوں میں پڑھتا ہے اور اس کے ہمسائے نے سنا تو اس نے کہا: کاش! مجھے بھی دیا جائے جیسے فلاں کو دیا گیا ہے تو میں بھی ویسے عمل کرتا جیسا عمل وہ کرتا ہے۔ دوسرا وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اس میں سے ضرورت کی جگہ (حق) پر خرچ کرتا رہتا ہے تو ایک آدمی نے کہا: کاش! مجھے بھی ویسے ہی دیا جائے جیسے فلاں کو دیا گیا ہے تو میں بھی اسی طرح عمل کرتا جیسے وہ کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7827
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 7828
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، قَالَ: " ضَرَبَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الدُّنْيَا مَثَلَ أَرْبَعَةٍ مِنَّا، رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ عِلْمًا وَآتَاهُ مَالًا فَهُوَ يَعْمَلُ بِعِلْمِهِ فِي مَالِهِ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ عِلْمًا وَلَمْ يُؤْتِهِ مَالًا فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ آتَانِيَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ لَفَعَلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ، فَهُمَا فِي الْأَجْرِ سَوَاءٌ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللهُ مَالًا وَلَمْ يُؤْتِهِ عِلْمًا، فَهُوَ يَمْنَعُهُ مِنْ حَقِّهِ وَيُنْفِقُهُ فِي الْبَاطِلِ، وَرَجُلٌ لَمْ يُؤْتِهِ اللهُ عِلْمًا وَلَا مَالًا، فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللهَ آتَانِي مِثْلَ مَا أُوتِيَ فُلَانٌ لَفَعَلْتُ فِيهِ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ، فَهُمَا فِي الْوِزْرِ سَوَاءٌ ". كَذَا رَوَاهُ الْأَعْمَشُ -.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو کتبہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمارے سامنے دنیا کی مثال بیان کی اور ہم میں سے چار آدمیوں کو مثال میں بیان فرمایا: ”وہ شخص جسے اللہ نے علم عطا کیا اور مال بھی دیا تو وہ اپنے مال میں سے علم کے مطابق خرچ کرتا ہے؛ اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے علم دیا، لیکن مال نہیں دیا، تو وہ کہتا ہے: اگر اللہ مجھے اسی طرح عطا کرے جیسے فلاں کو دیا ہے تو میں اس میں ایسے ہی کرتا جس طرح وہ کرتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں برابر ہیں؛ اور ایک وہ شخص جسے مال دیا گیا مگر اس کے پاس علم نہیں تو وہ اسے اس کے حق سے روک لیتا ہے اور باطل طریقے سے خرچ کرتا ہے؛ اور ایک وہ شخص جسے اللہ نے علم نہیں دیا اور نہ ہی مال دیا ہے تو وہ کہتا ہے: اگر اللہ مجھے عطا کر دے جو فلاں کو دیا گیا ہے تو میں بھی اس میں ایسے ہی کرتا جیسے فلاں کرتا ہے، تو وہ دونوں بوجھ میں برابر ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7828
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن حبان»
حدیث نمبر: 7829
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ أَحْمَدَ الْإِسْفَرَائِنِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنِ ابْنِ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ مَثَلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَثَلَ أَرْبَعَةٍ، رَجُلٌ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ. [٣١٨]- قَالَ عَلِيٌّ: وَابْنُ أَبِي كَبْشَةَ هَذَا مَعْرُوفٌ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ، قَدْ رُوِيَ عَنْهُ حَدِيثٌ آخَرُ، يَعْنِي عَنْ أَبِيهِ، فِي وَادِي ثَمُودَ.
حافظ ثناء اللہ
سالم بن ابی الجعد رحمہ اللہ، ابن ابی کیشہ انصاری رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں اور وہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے ”اس امت کی مثال بیان کی اور اس میں چار آدمیوں کی مثال دی،“ آگے پوری حدیث اس معنیٰ میں بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7829
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر قبله»