السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: فضل من أصبح صائما، وتبع جنازة، وأطعم مسكينا، وعاد مريضا باب: اس شخص کی فضیلت کا بیان جس نے روزے کی حالت میں صبح کی، جنازے کے پیچھے چلا، مسکین کو کھانا کھلایا اور مریض کی عیادت کی۔
حدیث نمبر: 7830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَخْرَمُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شِيرَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: " فَمَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جِنَازَةً؟ "، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: " فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، قَالَ: " فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے روزے کی حالت میں صبح کی ہے؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے جنازے کی اتباع کی ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے مسکین کو کھلایا ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج تم میں سے کس نے تیمارداری کی ہے؟“ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں جمع ہوں گی یہ سب کسی مسلمان میں مگر وہ جنت میں داخل ہوگا۔“