کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان دلائل کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صاع کا معیار پانچ اور ایک تہائی رطل تھا۔
حدیث نمبر: 7718
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ، قَالَا: ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، وَحُمَيْدٌ، وَعَبْدُ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ ⦗٢٨٦⦘ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: " أَتُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاحْلِقْ رَأْسَكَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ " وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ " أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً ". وَقَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، وَأَيُّوبَ، وَسَيْفِ بْنِ سُلَيْمَانَ، وَغَيْرِهِمْ عَنْ مُجَاهِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور وہ حدیبیہ میں تھے اور یہ مکہ میں دخول سے پہلے کی بات ہے اور وہ محرم تھے اور ہنڈیا کے نیچے آگ جلا رہے تھے اور جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے تیرے یہ جانور پریشان کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوا دے اور کھجور کا ایک «فَرَق» (ٹوکرا) چھ مسکینوں کو کھلا، اور «فَرَق» تین «صَاع» کا ہوتا ہے، یا پھر تین دن کے روزے رکھ یا ایک قربانی دے۔“ ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ ایک بکری ذبح کر۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7718
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه البخاري»
حدیث نمبر: 7719
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ مِنْ كِتَابٍ مُعَارَضٍ بِأَصْلِهِ أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بكرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ: " الْفَرَقُ سِتَّةَ عَشَرَ رِطْلًا "، وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " صَاعُ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ ". قَالَ: فَمَنْ قَالَ: ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ؟ قَالَ: لَيْسَ ذَلِكَ بِمَحْفُوظٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابوداؤد سبحستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل رحمہ اللہ کو سنا کہ ایک صاع سولہ رطل کا ہے جو ابن ابی ذئب کا صاع ہے اور وہ سوا پندرہ رطل کا ہے۔ جس نے آٹھ رطل کا کہا ہے وہ غیر محفوظ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7719
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ رجاله ثقات»
حدیث نمبر: 7720
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَحْمَدَ الْحِمْيَرِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَأَلَ أَبُو يُوسُفَ مَالِكًا عِنْدَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنْينَ عَنِ الصَّاعِ، كَمْ هُوَ رِطْلًا؟ قَالَ: السُّنَّةُ عِنْدَنَا أَنَّ الصَّاعَ لَا يُرْطَلُ، فَفَحَمَهُ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: سَمِعْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ الْوَلِيدِ يَقُولُ: قَالَ أَبُو يُوسُفَ: " فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَجَمَعْنَا أَبْنَاءَ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَدَعَوْتُ بِصَاعَاتِهِمْ، فَكُلٌّ حَدَّثَنِي عَنْ آبَائِهِمْ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ هَذَا صَاعُهُ فَقَدَّرْتُهَا فَوَجَدْتُهَا مُسْتَوِيَةً، فَتَرَكْتُ قَوْلَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَرَجَعْتُ إِلَى هَذَا ".
حافظ ثناء اللہ
ابو احمد محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے سنا، امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے امام مالک رحمہ اللہ سے امیر المؤمنین کے پاس پوچھا کہ صاع کتنے رطل کا ہوتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک سنت یہ ہے کہ صاع کے رطل نہیں ہوتے اور اسے یہ جواب دے کر لاجواب کر دیا۔ ابو احمد فرماتے ہیں: میں نے حسین بن ولید کو فرماتے ہوئے سنا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا: جب میں مدینہ آیا اور اصحابِ رسول ﷺ کے بیٹوں کو جمع کیا اور ان سے تمام صاع منگوائے تو وہ سب کے سب رسول اللہ ﷺ کی حدیث نقل فرمانے لگے کہ یہی وہ صاع ہے، تو میں نے ان سب کے صاع کو برابر پایا۔ پھر میں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو ترک کر دیا اور اس کی طرف رجوع کر لیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7720
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيرهٖ
تخریج حدیث «حسن لغيرهٖ»
حدیث نمبر: 7721
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا أَبُو يُوسُفَ مِنَ الْحَجِّ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ: " إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَفْتَحَ عَلَيْكُمْ بَابًا مِنَ الْعِلْمِ هَمَّنِي، تَفَحَّصْتُ عَنْهُ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ عَنِ الصَّاعِ، فَقَالُوا: صَاعُنَا هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ لَهُمْ: مَا حُجَّتُكُمْ فِي ذَلِكَ؟ فَقَالُوا: نَأْتِيكَ بِالْحُجَّةِ غَدًا، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَانِي نَحْوٌ مِنْ خَمْسِينَ شَيْخًا مِنْ أَبْنَاءِ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، مَعَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْهُمُ الصَّاعُ تَحْتَ رِدَائِهِ، كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يُخْبِرُ عَنْ أَبِيهِ أَوْ أَهْلِ بَيْتِهِ أَنَّ هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرْتُ فَإِذَا هِيَ سَوَاءٌ، قَالَ: فَعَايَرْتُهُ فَإِذَا هُوَ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ بِنُقْصَانٍ مَعَهُ يَسِيرٍ، فَرَأَيْتُ أَمْرًا قَوِيًّا فَقَدْ تَرَكْتُ قَوْلَ أَبِي حَنِيفَةَ فِي الصَّاعِ، وَأَخَذْتُ بِقَوْلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ " قَالَ الْحُسَيْنُ: فَحَجَجْتُ مِنْ عَامِي ذَلِكَ فَلَقِيتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الصَّاعِ، فَقَالَ: صَاعُنَا هَذَا صَاعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: كَمْ رِطْلًا هُوَ؟ قَالَ: إِنَّ الْمِكْيَالَ لَا يُرْطَلُ، هُوَ هَذَا. ⦗٢٨٧⦘ قَالَ الْحُسَيْنُ: فَلَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّ هَذَا صَاعُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حسین بن ولید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو یوسف رحمہ اللہ حج سے واپسی پر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میں چاہتا ہوں کہ تم پر علم کا ایک ایسا دروازہ کھولوں جس نے مجھے تیار کیا اور میں انہیں چھوڑ کر مدینہ چلا آیا، پھر میں نے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: یہ ہمارا صاع رسول اللہ ﷺ کا صاع ہے۔ میں نے ان سے کہا: تمہاری کیا دلیل ہے؟ انہوں نے کہا: ہم آپ کے پاس اس کی دلیل لاتے ہیں۔ اگلی صبح میرے پاس پچاس شیوخ کے لگ بھگ آئے جو مہاجرین و انصار کے بیٹے تھے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس اس کی چادر کے نیچے صاع تھا اور ان میں سے ہر ایک اپنے گھر والوں یا والدین سے کہہ رہا تھا کہ یہی رسول اللہ ﷺ کا صاع ہے۔ جب میں نے دیکھا تو سب کو برابر پایا اور وہ سوا پانچ رطل سے کچھ کم تھا تو میں نے اس کو قوی جانا اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول کو ترک کر دیا اور اہل مدینہ کے قول کو قبول کر لیا۔
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے اسی سال حج کیا تو میری ملاقات امام مالک بن انس رحمہ اللہ سے ہوئی۔ میں نے ان سے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ہمارا یہ صاع رسول اللہ ﷺ ہی کا صاع ہے۔ میں نے پوچھا: یہ کتنے رطل کا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: مکیال کے رطل نہیں ہوتے۔ حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں عبداللہ بن زید بن اسلم رحمہ اللہ سے ملا تو انہوں نے فرمایا: مجھے میرے والد نے میرے دادا کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا صاع ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7721
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ رجاله ثقات»
حدیث نمبر: 7722
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْخُسْرَوَجُرْدِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ الْجَلَّابُ، يَقُولُ: سَأَلْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أَبِي أُوَيْسٍ بِالْمَدِينَةِ، عَنْ صَاعِ النَّبِيِّ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَخْرَجَ إِلَيَّ صَاعًا عَتِيقًا بَالِيًا، فَقَالَ: هَذَا صَاعُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَيْنِهِ فَعَيَّرْتُهُ فَكَانَ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن سعد جلاب فرماتے ہیں: میں نے اسماعیل بن ابو اویس سے مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے صاع کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ایک پرانا صاع نکالا اور فرمایا: یہ ہے نبی کریم ﷺ کا اصل صاع، میں نے اس کا وزن کیا تو وہ پانچ رطل اور ایک ثلث تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7722
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
حدیث نمبر: 7723
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ: قَرَأْتُ بِخَطِّ أَبِي عَمْرٍو الْمُسْتَمْلِي، سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَعْنِي الذُّهْلِيَّ، يَقُولُ: " اسْتَعَرْتُ مِنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ صَاعَ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فَوَجَدْتُ عَلَيْهِ مَكْتُوبًا صَاعُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، مُعَيَّرٌ عَلَى صَاعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا أَحْسَبُنِي إِلَّا عَيَّرْتُهُ بِالْعَدَسِ، فَوَجَدْتُهُ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی ہرگز یہ نہ کہے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ، اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ» ”اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما“ بلکہ اسے چاہیے کہ پختہ عزم کے ساتھ سوال کرے، اس لیے کہ اسے کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7723
حدیث نمبر: 7724
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا الْخَصِيبُ بْنُ نَاصِحٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ صَاعَنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ، وَمُدَّنَا أَصْغَرُ الْأَمْدَادِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا وَقَلِيلِنَا وَكَثِيرِنَا، وَاجْعَلْ لَنَا مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ، اللهُمَّ إَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدَكَ وَخَلِيلَكَ دَعَاكَ لِأَهْلِ مَكَّةَ وَإِنِّي عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ أَدْعُوكَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاكَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ ". وَالَّذِي رَوَاهُ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغُسْلِ مِنَ الْجَنَابَةِ صَاعٌ وَالْوُضُوءُ رَطْلَيْنِ وَالصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ، فَإِنَّ صَالِحًا يَتَفَرَّدُ بِهِ وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ، قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِالْحَدِيثِ، وَكَذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَمَا رُوِيَ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَةَ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ بِرَطْلَيْنِ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ، ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ إِسْنَادُهُمَا ضَعِيفٌ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلَى ⦗٢٨٨⦘ خَمْسَةِ أَمْدَادٍ، ثُمَّ قَدْ أَخْبَرَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يُخْرِجُونَ زَكَاةَ الْفِطْرِ بِالصَّاعِ الَّذِي يَقْتَاتُونَ بِهِ فَدَلَّ ذَلِكَ عَلَى مُخَالَفَةِ صَاعِ الزَّكَاةِ وَالْقُوتِ صَاعَ الْغُسْلِ. ثُمَّ قَدْ رَوَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ قَدْرَ الْفَرَقِ، وَقَدْ دَلَّلْنَا عَلَى أَنَّ الْفَرَقَ ثَلَاثَةُ آصُعٍ، فَإِذَا كَانَ الصَّاعُ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا، كَانَ قَدْرُ مَا يَغْتَسِلُ بِهِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَمَانِيَةَ أَرْطَالٍ وَهُوَ صَاعٌ وَنِصْفٌ، وَقَدْرُ مَا يَغْتَسِلُ بِهِ كَانَ يَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ الِاسْتِعْمَالِ فَلَا مَعْنَى لِتَرْكِ الْأَحَادِيثِ الصَّحِيحَةِ فِي قَدْرِ الصَّاعِ الْمُعَدِّ لِزَكَاةِ الْفِطْرِ بِمِثْلِ هَذَا وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارا صاع تمام صاعوں سے چھوٹا ہے اور ہمارا مد تمام مدوں سے چھوٹا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت ڈال دے، ہمارے تھوڑے میں اور ہمارے زیادہ میں ایک برکت کے ساتھ دو برکات نازل فرما۔ اے اللہ! بیشک ابراہیم تیرے بندے اور تیرے خلیل نے اہل مکہ کے لیے دعا کی اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول تجھ سے اہل مدینہ کے لیے ویسی ہی دعا کرتا ہوں جو ابراہیم نے اہل مکہ کے لیے کی تھی۔“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ غسل جنابت میں جو رسول اللہ ﷺ کی سنت ایک صاع (پانی) تھا اور وضو کے لیے دو رطل تھے اور صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ وضو دو رطل سے اور غسل ایک صاع سے کرتے تھے، جو آٹھ رطل کا ہوتا ہے، اور یہ بھی کہ آپ ایک مد سے وضو کیا کرتے تھے اور غسل ایک صاع، یعنی پانچ مد سے کرتے۔
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ لوگ اسی صاع سے صدقہ فطر کرتے تھے جس سے ناپتے تھے۔
یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ زکوٰۃ والا صاع غسل والے صاع کے علاوہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں اور رسول اللہ ﷺ مل کر ایک برتن سے غسل کرتے جو ٹب کے مانند ہوتا اور یہ بات بھی واضح ہوچکی کہ فرق تین صاع کے برابر ہے۔ جب کہ صاع پانچ رطل اور ثلث ہوتا ہے، سو ان میں سے ہر ایک آٹھ رطل سے غسل کرتا تھا۔ یہ مقدار ایک صاع اور نصف ہے جو صدقہ فطر کے لیے بیان کی گئی ہے، جس مقدار کے ساتھ وہ غسل کرتے تھے، اس میں استعمال کی وجہ سے فرق ہوجاتا۔ احادیث صحیحہ کا ترک کرنا درست نہیں جن میں صاع کی مقدار صدقہ فطر کے لیے بیان کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7724
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»