کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان ائمہ کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کان رکاز ہے، جس میں خمس (پانچواں حصہ) واجب ہے“۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الصَّقْرِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا حَبَّانُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرِّكَازُ الذَّهَبُ الَّذِي يُنْبِتُ فِي الْأَرْضِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«الرِّكَازُ» یہ وہ سونا ہوتا ہے جو زمین سے نکلتا ہے۔“
وَرَوَاهُ أَبُو يُوسُفَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ "، قِيلَ: وَمَا الرِّكَازُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ الَّذِي خَلَقَهُ اللهُ فِي الْأَرْضِ يَوْمَ خُلِقَتْ "، حَدَّثَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ بْنُ مِيكَالٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَقِيهُ بِفَارِسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ثنا أَبُو يُوسُفَ فَذَكَرَهُ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا جَرَّحَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ. وَقَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الشَّافِعِيِّ الْبَغْدَادِيِّ عَنْهُ: قَدْ رَوَى أَبُو سَلَمَةَ وَسَعِيدٌ وَابْنُ سِيرِينَ وَمُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ وَغَيْرُهُمْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ لَمْ يَذْكُرَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَيْئًا مِنَ الَّذِي ذَكَرَ الْمَقْبُرِيُّ فِي حَدِيثِهِ وَالَّذِي رَوَى ذَلِكَ شَيْخٌ ضَعِيفٌ إِنَّمَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ قَدِ اتَّقَى النَّاسُ حَدِيثَهُ فَلَا يَجْعَلُ خَبَرَ رَجُلٍ قَدِ اتَّقَى النَّاسُ حَدِيثَهُ حُجَّةً.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رکاز میں خمس ہے۔“ کہا گیا کہ رکاز کیا ہے؟ اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ چاندی سونا جسے زمین میں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، جب زمین پیدا کی گئی تھی۔“ [منکر تقدم قبلہ۔]
اسے صرف عبداللہ بن سعید مقبری نے روایت کیا ہے اور وہ سخت ضعیف ہے، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس پر جرح کی ہے۔
اسے صرف عبداللہ بن سعید مقبری نے روایت کیا ہے اور وہ سخت ضعیف ہے، احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور ائمہ حدیث کی ایک جماعت نے اس پر جرح کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ⦗٢٥٨⦘ كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ: " هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ، إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ قَالَ: " هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا مَا آوَاهُ الْجَرِينُ، فَمَا أَخَذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ ". قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى فِيمَا يُؤْخَذُ فِي الطَّرِيقِ الْمِئْتَاءِ أَوِ الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ؟ قَالَ: " عَرِّفْهُ سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهِ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهُ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهِ إِلَيْهِ فَمَا كَانَ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِئْتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ: فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " طَعَامٌ مُأْكُولٌ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا وَلَا يُخَافُ عَلَيْهَا الذِّئْبَ تَأْكُلُ الْكَلَأَ وَتَرِدُ الْمَاءَ دَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَ طَالِبُهَا " مَنْ قَالَ بِالْأَوَّلِ أَجَابَ عَنْ هَذَا بِأَنَّ هَذَا الْخَبَرَ وَرَدَ فِيمَا يُوجَدُ مِنْ أَمْوَالِ الْجَاهِلِيَّةِ ظَاهِرًا فَوْقَ الْأَرْضِ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِئْتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ فَيَكُونُ فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ وَلَيْسَ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْدِنِ بِسَبِيلٍ وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنْهُ اعْتِلَالَهُمْ بِالْحَدِيثِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: هُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعِيفٌ وَذَكَرَ اعْتِلَالَهُمْ بِحَدِيثِ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ هَذَا ثُمَّ قَالَ: إِنْ كَانَ حَدِيثُ عَمْرٍو يَكُونُ حُجَّةً، فَالَّذِي رَوَى حُجَّةٌ عَلَيْهِ فِي غَيْرِ حُكْمٍ وَإِنْ كَانَ حَدِيثُ عَمْرٍو غَيْرَ حُجَّةٍ فَالْحُجَّةُ بِغَيْرِ حُجَّةٍ جَهْلٌ، ثُمَّ ذَكَرَ مُخَالَفَتَهُمُ الْحَدِيثَ فِي الْغَرَامَةِ وَفِي التَّمْرِ الرُّطَبِ إِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ وَفِي اللُّقَطَةِ ثُمَّ قَالَ: فَخَالَفَ حَدِيثَ عَمْرٍو الَّذِي رَوَاهُ فِي أَحْكَامٍ غَيْرِ وَاحِدَةٍ فِيهِ وَاحْتَجَّ مِنْهُ بِشَيْءٍ وَاحِدٍ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ فِي الْحَدِيثِ فَإِنْ كَانَ حُجَّةً فِي شَيْءٍ فَلْيَقُلْ بِهِ فِيمَا تَرَكَهُ فِيهِ، قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ فِي الْحَدِيثِ إِشَارَةٌ إِلَى مَا ذَكَرْنَا مِنْ أَنَّهُ لَيْسَ بِوَارِدٍ فِي الْمَعْدِنِ إِنَّمَا هُوَ فِي مَا هُوَ فِي مَعْنَى الرِّكَازِ مِنْ أَمْوَالِ الْجَاهِلِيَّةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مزینہ قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ پہاڑ کی چراگاہ سے چرائے گئے جانور کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”(چور پر) وہ اور اس جیسا ایک اور (بطور چٹی) ہے اور عبرتناک سزا ہے، مویشیوں میں سے کسی چیز میں ہاتھ کاٹنا نہیں مگر جسے باڑے نے پناہ دی ہو، پھر اگر وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اور جو ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے تو اس میں دوگنا چٹی اور عبرتناک کوڑے ہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ لٹکنے والے پھلوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ اور اس کی مثل اس کے ساتھ ہے (اتنی مقدار بھی لی جائے گی اور کوڑے بھی) اور عبرتناک سزا ہے، لٹکتے پھلوں میں ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے مگر جسے کھلیان نے پناہ دی ہو، سو جو کھلیان سے لیا جائے اور ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے تو پھر اس میں قطع ید ہے اور جب تک ڈھال کی قیمت کو نہ پہنچے، اس میں دوگنا چٹی ہے اور عبرتناک کوڑے ہیں۔“ پھر اس نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں اس چیز کے بارے میں جو آباد رستے سے ملے یا آباد بستی سے ملے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال اس کا اعلان کر، اگر اسے تلاش کرنے والا آجائے تو اسے لوٹا دے، وگرنہ تیری مرضی؛ اگر اس کا طالب زمانے میں کسی بھی دن آجائے تو اسے لوٹا دے، اور جو چیز غیر آباد رستے میں اور غیر آباد بستی میں ملے تو اس میں اور رکاز میں خمس ہے۔“ پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ گمشدہ بکری کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کھانے کا گوشت ہے جو تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا پھر وہ بھیڑیے کے لیے ہے، اسے اپنے بھائی کے لیے باندھ رکھ۔ یہ اس کی گمشدہ چیز ہے۔“ پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! اونٹ کے بارے میں آپ کا فرمان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس سے کوئی سروکار نہیں، اس کے ساتھ اس کا پانی اور جوتا ہے۔ اس پر بھیڑیے کا خوف نہیں، وہ گھاس کھائے گا اور پانی پر وارد ہوگا، سو اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا طالب (مالک) آجائے۔“
جنہوں نے پہلی بات کہی، انہوں نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ خبر جاہلیت کے اس مال کے بارے میں وارد ہوئی ہے جو زمین کے اوپر ظاہر حالت میں غیر آباد رستے میں یا غیر آباد بستی میں پایا جائے، تو اس میں اور رکاز میں خمس ہے، اور اس کا معدن (کان) سے کوئی تعلق نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے زعفرانی کی روایت میں ان کے پہلی حدیث سے استدلال کا ذکر کیا، پھر فرمایا: یہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہے۔ پھر عمرو بن شعیب سے ہشام بن سعد کی اس حدیث سے ان کے استدلال کا ذکر کیا اور فرمایا: اگر عمرو کی حدیث حجت ہے تو جو انہوں نے روایت کی وہ کئی احکام میں ان کے خلاف حجت ہے، اور اگر عمرو کی حدیث حجت نہیں تو غیر حجت سے دلیل پکڑنا جہالت ہے۔ پھر چٹی، کھلیان میں پہنچی تازہ کھجور اور گری پڑی چیز کے بارے میں ان کی حدیث سے مخالفت کا ذکر کیا، پھر فرمایا: انہوں نے عمرو کی اس حدیث کی، جسے خود روایت کیا، کئی احکام میں مخالفت کی اور اس میں سے صرف ایک چیز سے دلیل لی جو محض حدیث کے بارے میں وہم ہے، اگر یہ کسی چیز میں حجت ہے تو اسے ان باتوں میں بھی اختیار کریں جن میں اسے چھوڑ دیا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا قول کہ ”یہ محض حدیث کے بارے میں وہم ہے“ اسی بات کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے ذکر کی کہ یہ کان کے بارے میں وارد نہیں ہوئی، یہ صرف اس کے بارے میں ہے جو جاہلیت کے اموال میں سے رکاز کے حکم میں ہو۔ واللہ اعلم۔
جنہوں نے پہلی بات کہی، انہوں نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ یہ خبر جاہلیت کے اس مال کے بارے میں وارد ہوئی ہے جو زمین کے اوپر ظاہر حالت میں غیر آباد رستے میں یا غیر آباد بستی میں پایا جائے، تو اس میں اور رکاز میں خمس ہے، اور اس کا معدن (کان) سے کوئی تعلق نہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے زعفرانی کی روایت میں ان کے پہلی حدیث سے استدلال کا ذکر کیا، پھر فرمایا: یہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہے۔ پھر عمرو بن شعیب سے ہشام بن سعد کی اس حدیث سے ان کے استدلال کا ذکر کیا اور فرمایا: اگر عمرو کی حدیث حجت ہے تو جو انہوں نے روایت کی وہ کئی احکام میں ان کے خلاف حجت ہے، اور اگر عمرو کی حدیث حجت نہیں تو غیر حجت سے دلیل پکڑنا جہالت ہے۔ پھر چٹی، کھلیان میں پہنچی تازہ کھجور اور گری پڑی چیز کے بارے میں ان کی حدیث سے مخالفت کا ذکر کیا، پھر فرمایا: انہوں نے عمرو کی اس حدیث کی، جسے خود روایت کیا، کئی احکام میں مخالفت کی اور اس میں سے صرف ایک چیز سے دلیل لی جو محض حدیث کے بارے میں وہم ہے، اگر یہ کسی چیز میں حجت ہے تو اسے ان باتوں میں بھی اختیار کریں جن میں اسے چھوڑ دیا ہے۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ان کا قول کہ ”یہ محض حدیث کے بارے میں وہم ہے“ اسی بات کی طرف اشارہ ہے جو ہم نے ذکر کی کہ یہ کان کے بارے میں وارد نہیں ہوئی، یہ صرف اس کے بارے میں ہے جو جاہلیت کے اموال میں سے رکاز کے حکم میں ہو۔ واللہ اعلم۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَ الْمَعْدِنَ بِمَنْزِلَةِ الرِّكَازِ فِيهِ الْخُمُسُ. وَهَذَا مُنْقَطِعٌ، مَكْحُولٌ لَمْ يُدْرِكْ زَمَانَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے «مَعَادِن» کو «رِكَاز» کے برابر کیا اور فرمایا: اس میں بھی خمس ہے۔
یہ روایت منقطع ہے، مکحول نے عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
یہ روایت منقطع ہے، مکحول نے عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔