کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: کان (معدن) کی زکوٰۃ، اور ان کا بیان جنھوں نے کہا کہ ”کان رکاز (دفون خزانہ) نہیں ہے“۔
حدیث نمبر: 7636
لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ " فَفَصَلَ بَيْنَهُمَا فِي الذِّكْرِ وَأَضَافَ الْخُمُسَ إِلَى الرِّكَازِ..
حافظ ثناء اللہ
نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کی وجہ سے: ”کان (میں گر کر مرنے والے کا خون) رائیگاں ہے، اور رکاز (دبے ہوئے خزانے) میں پانچواں حصہ (خمس) ہے۔“
پس آپ ﷺ نے ذکر میں ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیا ہے اور خمس (پانچویں حصے) کو رکاز کی طرف منسوب کیا ہے۔
پس آپ ﷺ نے ذکر میں ان دونوں کے درمیان فرق بیان کیا ہے اور خمس (پانچویں حصے) کو رکاز کی طرف منسوب کیا ہے۔
حدیث نمبر: 7636
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ لِبِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ الْمُزَنِيِّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ وَهِيَ مِنْ نَاحِيَةِ الْفَرْعِ فَتِلْكَ الْمَعَادِنُ لَا يُؤْخَذُ مِنْهَا إِلَّا الزَّكَاةُ إِلَى الْيَوْمِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ لَيْسَ هَذَا مِمَّا يُثْبِتُ أَهْلُ الْحَدِيثِ، وَلَوْ ثَبَتُوهُ لَمْ تَكُنْ فِيهِ رِوَايَةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا إِقْطَاعَهُ فَأَمَّا الزَّكَاةُ فِي الْمَعَادِنِ دُونَ الْخُمُسِ فَلَيْسَتْ مَرْوِيَّةً عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ. قَالَ الشَّيْخُ: هُوَ كَمَا قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ مَالِكٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيِّ عَنْ رَبِيعَةَ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کی کانوں میں سے دیا اور وہ فرع کی جانب تھیں، یہ معادن (کانیں) ایسی تھیں کہ ان سے زکوۃ نہیں لی جاتی تھی سوائے روزینے (یومیہ) کے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس میں سے ہے جو اہل حدیث سے ثابت ہے، اگر وہ ثابت ہو جس میں نبی کریم ﷺ سے روایت نہیں ہے سوائے منقطع روایت کے، لیکن کان میں زکوۃ خمس کے علاوہ نبی کریم ﷺ سے منقول نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ نے بھی وہی بات کہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ اس میں سے ہے جو اہل حدیث سے ثابت ہے، اگر وہ ثابت ہو جس میں نبی کریم ﷺ سے روایت نہیں ہے سوائے منقطع روایت کے، لیکن کان میں زکوۃ خمس کے علاوہ نبی کریم ﷺ سے منقول نہیں۔ شیخ رحمہ اللہ نے بھی وہی بات کہی ہے جو امام شافعی رحمہ اللہ نے کہی ہے۔
حدیث نمبر: 7637
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ مِنَ الْمَعَادِنِ الْقَبَلِيَّةِ الصَّدَقَةَ وَأَنَّهُ أَقْطَعَ بِلَالَ بْنَ الْحَارِثَ الْعَقِيقَ أَجْمَعَ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لِبِلَالٍ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْطَعْكَ إِلَّا لِتَعْمَلَ قَالَ: فَأَقْطَعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلنَّاسِ الْعَقِيقَ.
حافظ ثناء اللہ
حارث بن بلال بن حارث رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قبلیہ کی کانوں سے زکوۃ وصول کی اور آپ ﷺ نے بلال بن حارث رضی اللہ عنہ کو عقیق کا علاقہ دیا۔ جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بلال رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف کام کرنے کے لیے تجھے یہ قطعہ دیا تھا۔ پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عقیق کا قطعہ لوگوں میں تقسیم کر دیا۔
حدیث نمبر: 7638
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ⦗٢٥٧⦘ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ جَعَلَ الْمَعْدِنَ بِمَنْزِلَةِ الرِّكَازِ يُؤْخَذُ مِنْهُ الْخُمُسُ ثُمَّ عَقَّبَ بِكِتَابٍ آخَرَ فَجَعَلَ فِيهِ الزَّكَاةَ. وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَذَ مِنَ الْمَعَادِنِ مِنْ كُلِّ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ خَمْسَةَ دَرَاهِمَ وَعَنْ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: جَعَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْمَعَادِنِ أَرْبَاعَ الْعُشُورِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ رِكْزَةً فَإِذَا كَانَتْ رِكْزَةً فَفِيهَا الْخُمُسُ.
حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے معدن کو رکاز کا درجہ دیا۔ اس لیے ان سے خمس لیا جاتا تھا، پھر دوسری تحریر پیچھے روانہ کی اور اس میں زکاۃ مقرر کر دی۔
عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کان سے ہر دو سو درہم میں پانچ درہم وصول کیے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے کہا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کان میں چوتھائی عشر مقرر کیا، اگر وہ مدفون خزانہ نہ ہو اور اگر وہ مدفون خزانہ ہو تو اس میں خمس ہے۔
عبداللہ بن ابوبکر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کان سے ہر دو سو درہم میں پانچ درہم وصول کیے۔ ابوزناد رحمہ اللہ نے کہا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کان میں چوتھائی عشر مقرر کیا، اگر وہ مدفون خزانہ نہ ہو اور اگر وہ مدفون خزانہ ہو تو اس میں خمس ہے۔