حدیث نمبر: 7641
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ⦗٢٥٨⦘ كَيْفَ تَرَى فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ؟ قَالَ: " هِيَ وَمِثْلُهَا وَالنَّكَالُ لَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الْمَاشِيَةِ قَطْعٌ، إِلَّا فِيمَا آوَاهُ الْمُرَاحُ وَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ قَطْعُ الْيَدِ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ " قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، فَكَيْفَ تَرَى فِي الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ؟ قَالَ: " هُوَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ وَالنَّكَالُ وَلَيْسَ فِي شَيْءٍ مِنَ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ قَطْعٌ إِلَّا مَا آوَاهُ الْجَرِينُ، فَمَا أَخَذَ مِنَ الْجَرِينِ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ الْقَطْعُ وَمَا لَمْ يَبْلُغْ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَفِيهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَجَلَدَاتُ نَكَالٍ ". قَالَ: فَكَيْفَ تَرَى فِيمَا يُؤْخَذُ فِي الطَّرِيقِ الْمِئْتَاءِ أَوِ الْقَرْيَةِ الْمَسْكُونَةِ؟ قَالَ: " عَرِّفْهُ سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهِ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ وَإِلَّا فَشَأْنَكَ بِهِ، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهُ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهِ إِلَيْهِ فَمَا كَانَ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِئْتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ فَفِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ: فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " طَعَامٌ مُأْكُولٌ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ احْبِسْ عَلَى أَخِيكَ ضَالَّتَهُ ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ فَكَيْفَ تَرَى فِي ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَقَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا وَلَا يُخَافُ عَلَيْهَا الذِّئْبَ تَأْكُلُ الْكَلَأَ وَتَرِدُ الْمَاءَ دَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَ طَالِبُهَا " مَنْ قَالَ بِالْأَوَّلِ أَجَابَ عَنْ هَذَا بِأَنَّ هَذَا الْخَبَرَ وَرَدَ فِيمَا يُوجَدُ مِنْ أَمْوَالِ الْجَاهِلِيَّةِ ظَاهِرًا فَوْقَ الْأَرْضِ فِي الطَّرِيقِ غَيْرِ الْمِئْتَاءِ وَفِي الْقَرْيَةِ غَيْرِ الْمَسْكُونَةِ فَيَكُونُ فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ وَلَيْسَ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْدِنِ بِسَبِيلٍ وَذَكَرَ الشَّافِعِيُّ فِي رِوَايَةِ الزَّعْفَرَانِيِّ عَنْهُ اعْتِلَالَهُمْ بِالْحَدِيثِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ: هُوَ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ضَعِيفٌ وَذَكَرَ اعْتِلَالَهُمْ بِحَدِيثِ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ هَذَا ثُمَّ قَالَ: إِنْ كَانَ حَدِيثُ عَمْرٍو يَكُونُ حُجَّةً، فَالَّذِي رَوَى حُجَّةٌ عَلَيْهِ فِي غَيْرِ حُكْمٍ وَإِنْ كَانَ حَدِيثُ عَمْرٍو غَيْرَ حُجَّةٍ فَالْحُجَّةُ بِغَيْرِ حُجَّةٍ جَهْلٌ، ثُمَّ ذَكَرَ مُخَالَفَتَهُمُ الْحَدِيثَ فِي الْغَرَامَةِ وَفِي التَّمْرِ الرُّطَبِ إِذَا آوَاهُ الْجَرِينُ وَفِي اللُّقَطَةِ ثُمَّ قَالَ: فَخَالَفَ حَدِيثَ عَمْرٍو الَّذِي رَوَاهُ فِي أَحْكَامٍ غَيْرِ وَاحِدَةٍ فِيهِ وَاحْتَجَّ مِنْهُ بِشَيْءٍ وَاحِدٍ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ فِي الْحَدِيثِ فَإِنْ كَانَ حُجَّةً فِي شَيْءٍ فَلْيَقُلْ بِهِ فِيمَا تَرَكَهُ فِيهِ، قَالَ الشَّيْخُ: قَوْلُهُ إِنَّمَا هُوَ تَوَهُّمٌ فِي الْحَدِيثِ إِشَارَةٌ إِلَى مَا ذَكَرْنَا مِنْ أَنَّهُ لَيْسَ بِوَارِدٍ فِي الْمَعْدِنِ إِنَّمَا هُوَ فِي مَا هُوَ فِي مَعْنَى الرِّكَازِ مِنْ أَمْوَالِ الْجَاهِلِيَّةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مدینہ کا ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ پہاڑوں کی کان کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ اور اس جیسے مدفون خزانوں میں کچھ نہیں، مگر ماشیہ میں ایک حصہ ہے اور جسے چوروں نے چرا لیا ہو اور اس کی قیمت ایک اونٹنی کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، جب اس کی قیمت اونٹنی کے برابر نہ ہو تو اسے چٹی ہوگی اس سے دوگنا اور عبرتناک کوڑے ہیں۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ لٹکنے والے پھلوں کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی مثل اس کے ساتھ ہے (اتنی مقدار بھی لی جائے گی اور کوڑے بھی)، لٹکتے پھلوں میں ہاتھ کا کاٹنا نہیں ہے مگر جس سے دو مٹکے بھر جائیں اور جو مٹکوں سے حاصل ہو وہ اونٹنی کی قیمت کو پہنچ جائے تو پھر اس میں قطع ید ہے اور جب تک اونٹنی کی قیمت کو نہ پہنچے، اس میں دوگنا چٹی ہے اور عبرتناک کوڑے ہیں۔“ پھر اس نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں اس چیز کے بارے میں جو آباد رستے سے ملے یا آباد بستی سے ملے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک سال اس کا اعلان کر، اگر اسے تلاش کرنے والا آجائے تو اسے لوٹا دے، وگرنہ تیری مرضی؛ اگر اس کا طالب سال میں کسی دن آگیا تو اسے لوٹا دے اور جو بات بےآباد رستے کی ہے اور بےآباد گھر کی ہے تو وہ اور رکاز، ان میں خمس ہے۔“ پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! آپ گمشدہ بکری کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کھانے کا گوشت ہے جو تیرے لیے یا تیرے بھائی کے لیے یا پھر وہ بھیڑیے کے لیے ہے، اسے اپنے بھائی کے لیے باندھ رکھ۔ یہ اس کی گمشدہ چیز ہے۔“ پھر اس نے کہا: اللہ کے رسول! اونٹ کے بارے میں آپ کا فرمان کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے اس سے کوئی سروکار نہیں، اس کے ساتھ اس کا پانی اور جوتا ہے۔ اس پر بھیڑیے کا خوف نہیں، وہ گھاس کھائے گا اور پانی پر وارد ہوگا، سو اسے چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کا طالب (مالک) آجائے۔“
جس نے پہلی بات کہی، اس نے اس کا جواب دیا ہے کہ یہ خبر اس بارے میں وارد ہوئی ہے جو جاہلیت کے دور کا مال پایا جائے۔ زمین کے اوپر ایسے راستے میں جو ختم نہیں ہوا یا ایسی بستی میں جس میں سکونت نہ ہو تو وہ زکوۃ ہے اور اس میں خمس ہے۔ یہ معدن (کان) نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ اہل حدیث کے نزدیک ضعیف ہے، اس ضمن میں انہوں نے ہشام کی حدیث بیان کی ہے اور شیخ نے کہا ہے کہ حدیث میں ان کا وہم اسی کی طرف اشارہ ہے کہ جو ہم نے بیان کیا ہے یہ کان کے بارے میں وارد نہیں ہوا، یہ اس کے بارے میں ہے جو رکاز کے حکم میں ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7641
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ نسائي»