کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: ان احادیث کا سیاق جو سونے کا زیور پہننے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
حدیث نمبر: 7553
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ الْبَرَّادُ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُحَلِّقَ حَبِيبَهُ حَلْقَةً مِنْ نَارٍ فَلْيُحَلِّقْهُ حَلْقَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُطَوِّقَ حَبِيبَهُ طَوْقًا مِنْ نَارٍ فَلْيُطَوِّقْهُ طَوْقًا مِنْ ذَهَبٍ وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يُسَوِّرَ حَبِيبَهُ سِوَارًا مِنْ نَارٍ فَلْيُسَوِّرْهُ سِوَارًا مِنْ ذَهَبٍ وَلَكِنْ عَلَيْكُمْ بِالْفِضَّةِ فَالْعَبُوا بِهَا لَعِبًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے پیارے کو آگ کا کڑا (کنگن) پہنایا جائے تو وہ اسے سونے کا کڑا (کنگن) پہنائے اور جو کوئی چاہتا ہے کہ اس کے پیارے کو آگ کا ہار پہنایا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے سونے کا ہار پہنائے اور جو کوئی چاہتا ہے کہ اپنے عزیز کو آگ کے کنگن پہنائے، تو وہ اسے سونے کے کنگن پہنائے لیکن تم اپنے لیے چاندی کو لازم پکڑو اور اسی سے اپنے کھیل کو پورا کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7553
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه ابو داؤد»
حدیث نمبر: 7554
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنِ امْرَأَتِهِ، عَنْ أُخْتِ حُذَيْفَةَ قَالَتْ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ أَمَا لَكُنَّ فِي الْفِضَّةِ مَا تَحَلَّيْنَ بِهِ أَمَا إِنَّهُ لَيْسَ مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُحَلَّى ذَهَبًا تُظْهِرُهُ إِلَّا عُذِّبَتْ بِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ حذیفہ کی بہن رضی اللہ عنہما فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا کہ ”اے عورتوں کی جماعت! تم چاندی کو بطور زیور کیوں نہیں پہنتیں؟ سن رکھو کہ تم میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جو سونے کا زیور پہنتی ہے اور اسے ظاہر کرتی ہے مگر اسے اس کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7554
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
حدیث نمبر: 7555
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَيُّمَا امْرَأَةٍ تَقَلَّدَتْ بِقِلَادَةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَلَّدَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِثْلَهَا مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ جَعَلَتْ فِي أُذُنِهَا خَرْصًا مِنْ ذَهَبٍ جَعَلَ اللهُ فِي أُذُنِهَا مِثْلَهُ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت سونے کا ہار پہنتی ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ویسا ہی آگ کا ہار پہنائیں گے اور جس عورت نے اپنے کانوں میں سونے کی بالیاں وغیرہ پہنیں، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے ویسی ہی آگ کی بالیاں پہنائیں گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7555
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه ابو داؤد»
حدیث نمبر: 7556
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: جَاءَتِ ابْنَةُ هُبَيْرَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي يَدِهَا فَتَخٌ مِنْ ذَهَبٍ أَيْ خَوَاتِيمُ ضِخَامٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُ يَدَهَا فَأَتَتْ فَاطِمَةُ تَشْكُو إِلَيْهَا، قَالَ ثَوْبَانُ: فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى فَاطِمَةَ وَأَنَا مَعَهُ وَقَدْ أَخَذَتْ مِنْ عُنُقِهَا سِلْسِلَةً مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَتْ: هَذِهِ أَهْدَاهَا لِي أَبُو حَسَنٍ وَفِي يَدِهَا السِّلْسِلَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيَسُرُّكِ أَنْ يَقُولَ النَّاسُ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهَا سِلْسِلَةٌ مِنْ نَارٍ؟ "، فَخَرَجَ وَلَمْ يَقْعُدْ فَعَمَدَتْ فَاطِمَةُ إِلَى السِّلْسِلَةِ فَبَاعَتْهَا وَاشْتَرَتْ بِهَا نَسَمَةً وَأَعْتَقَتْهَا فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي نَجَّى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ ". ⦗٢٣٨⦘.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنت ہبیرہ رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کے پاس آئیں، ان کے ہاتھ میں سونے کی بڑی انگوٹھیاں تھیں۔ نبی کریم ﷺ اس کے ہاتھ پر مار رہے تھے تو وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس شکایت لے کر آئیں۔ سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ بھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھا تو انہوں نے اس کی گردن سے سونے کی چین کو پکڑا اور کہا: یہ ابو الحسن (رضی اللہ عنہ) نے مجھے تحفہ دیا تھا اور چین ان کے ہاتھ میں تھی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے اچھا لگتا ہے کہ لوگ کہیں کہ فاطمہ بنت محمد ﷺ کے ہاتھ میں آگ کی چین ہے؟“ پھر آپ ﷺ نکل گئے اور نہ بیٹھے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے وہ چین فروخت کر دی اور انہوں نے اس سے ایک غلام خرید کر آزاد کر دیا۔ یہ بات نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِي نَجّٰى فَاطِمَةَ مِنَ النَّارِ» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آگ سے بچا لیا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7556
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه النسائي»
حدیث نمبر: 7557
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا تَمْتَامٌ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي سَلَّامٍ أَنَّ جَدَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا أَسْمَاءَ حَدَّثَهُ أَنَّ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. فَهَذِهِ الْأَخْبَارُ وَمَا وَرَدَ فِي مَعْنَاهَا تَدُلُّ عَلَى تَحْرِيمِ التَّحَلِّي بِالذَّهَبِ.
حافظ ثناء اللہ
زید ابوالسلام اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ ابواسماء نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا اور اسی معنیٰ میں حدیث بیان کی۔ یہ تمام اخبار ان معانی میں وارد ہوئی ہیں جو سونے کے زیور بنانے کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7557
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»