کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے زکوٰۃ میں (اشیاء کی بجائے) ان کی قیمت لینے کو جائز قرار دیا ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، ⦗١٩٠⦘ عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: قَالَ مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ: " ائْتُونِي بِخَمِيسٍ أَوْ لَبِيسٍ آخُذُهُ مِنْكُمْ مَكَانَ الصَّدَقَةِ فَإِنَّهُ أَهْوَنُ عَلَيْكُمْ وَخَيْرٌ لِلْمُهَاجِرِينَ بِالْمَدِينَةِ ". كَذَا قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے یمن والوں سے کہا کہ تم میرے پاس خمیس (پانچ ہاتھ لمبے کپڑے) یا پہنے ہوئے کپڑے لاؤ، میں تم سے زکاۃ کے عوض وصول کروں گا کیونکہ وہ تمہارے لیے آسان ہے اور مہاجرینِ مدینہ کے لیے بہتر ہے۔
وَخَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ، فَقَالَ: قَالَ مُعَاذٌ بِالْيَمَنِ: " ائْتُونِي بِعَرَضِ ثِيَابٍ آخُذُهُ مِنْكُمْ مَكَانَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ عَنْهُ حَدِيثَ طَاوُسٍ عَنِ مُعَاذٍ إِذَا كَانَ مُرْسَلًا فَلَا حُجَّةَ فِيهِ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ بَعْضُهُمْ مِنَ الْجِزْيَةِ بَدَلَ الصَّدَقَةِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ الْأَلْيَقُ بِمُعَاذٍ وَالْأَشْبَهُ بِمَا أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ مِنْ أَخْذِ الْجِنْسِ فِي الصَّدَقَاتِ وَأَخْذِ الدِّينَارِ أَوْ عَدَّ لَهُ مَعَافِرَ ثِيَابٍ بِالْيَمَنِ فِي الْجِزْيَةِ، وَأَنْ تُرَدَّ الصَّدَقَاتُ عَلَى فُقَرَائِهِمْ لَا أَنْ يَنْقُلَهَا إِلَى الْمُهَاجِرِينَ بِالْمَدِينَةِ الَّذِينَ أَكْثَرُهُمْ أَهْلُ فَيْءٍ لَا أَهْلُ صَدَقَةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے یمن والوں سے کہا کہ تم میرے پاس خمیس یا پہنے ہوئے کپڑے لاؤ میں تم سے زکوٰۃ کے عوض وصول کروں گا کیونکہ وہ تمہارے لیے آسان ہے اور مہاجرینِ مدینہ کے لیے بہتر ہے۔
لیکن روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس کپڑا لاؤ میں تم سے جوار اور جو کے عوض لوں گا۔
ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ نے کہا: طاؤس کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت جب مرسل ہو تو اس میں کوئی حجت نہیں، اور بعض راویوں نے اس میں صدقہ کی بجائے جزیہ کا لفظ کہا ہے۔
لیکن روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس کپڑا لاؤ میں تم سے جوار اور جو کے عوض لوں گا۔
ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ نے کہا: طاؤس کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت جب مرسل ہو تو اس میں کوئی حجت نہیں، اور بعض راویوں نے اس میں صدقہ کی بجائے جزیہ کا لفظ کہا ہے۔
وَأَمَّا الَّذِي رَوَاهُ مُجَالِدٌ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ الصُّنَابِحِيِّ الْأَحْمَسِيّ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ نَاقَةً مُسِنَّةً فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَغَضِبَ وَقَالَ: " قَاتَلَ اللهُ صَاحِبَ هَذِهِ النَّاقَةِ " فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَوَاشِي الصَّدَقَةِ قَالَ: " فَنِعْمَ إِذًا "، وَهَذَا فِيمَا أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَنَّ أَبَا الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُمْ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنِ الْمُجَالِدِ فَذَكَرَهُ. فَقَدْ قَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ عَنْهُ الْبُخَارِيَّ فَقَالَ: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي ⦗١٩١⦘ خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ مُرْسَلًا وَضَعَّفَ مُجَالِدًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا صنابحی احمسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسنہ اونٹنی کو زکوٰۃ کے اونٹوں میں دیکھا تو آپ ﷺ غصے میں آگئے اور فرمایا: ”اللہ اس اونٹنی والے کو ہلاک کرے۔“ تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اسے میں نے دو اونٹوں کے عوض لیا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ٹھیک ہے۔“
ابو عیسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس حدیث کو اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے نقل کیا کہ نبی کریم ﷺ نے زکوٰۃ کے اونٹوں میں (وہ اونٹنی) دیکھی، یعنی مرسلاً، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے مجالد کو ضعیف قرار دیا۔
ابو عیسیٰ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس حدیث کو اسماعیل بن ابی خالد نے قیس بن ابی حازم سے نقل کیا کہ نبی کریم ﷺ نے زکوٰۃ کے اونٹوں میں (وہ اونٹنی) دیکھی، یعنی مرسلاً، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے مجالد کو ضعیف قرار دیا۔
أَخْبَرَنَاهُ مُرْسَلًا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَاقَةً كَوْمَاءَ فَسَأَلَ عَنْهَا، فَقَالَ الْمُصَدِّقُ: إِنِّي أَخَذْتُهَا بِإِبِلٍ فَسَكَتَ.
حافظ ثناء اللہ
قیس بن ابی حازم نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے زکاۃ کے اونٹوں میں ایک عمدہ اونٹنی دیکھی تو عامل سے پوچھا، تو اس نے کہا: ”میں نے یہ اونٹ کے عوض لی ہے۔“ تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے۔