السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: من أجاز أخذ القيم في الزكوات. باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے زکوٰۃ میں (اشیاء کی بجائے) ان کی قیمت لینے کو جائز قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 7373
وَخَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ، فَقَالَ: قَالَ مُعَاذٌ بِالْيَمَنِ: " ائْتُونِي بِعَرَضِ ثِيَابٍ آخُذُهُ مِنْكُمْ مَكَانَ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعِيدٍ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ فَذَكَرَهُ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ عَنْهُ حَدِيثَ طَاوُسٍ عَنِ مُعَاذٍ إِذَا كَانَ مُرْسَلًا فَلَا حُجَّةَ فِيهِ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ بَعْضُهُمْ مِنَ الْجِزْيَةِ بَدَلَ الصَّدَقَةِ. قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ الْأَلْيَقُ بِمُعَاذٍ وَالْأَشْبَهُ بِمَا أَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ مِنْ أَخْذِ الْجِنْسِ فِي الصَّدَقَاتِ وَأَخْذِ الدِّينَارِ أَوْ عَدَّ لَهُ مَعَافِرَ ثِيَابٍ بِالْيَمَنِ فِي الْجِزْيَةِ، وَأَنْ تُرَدَّ الصَّدَقَاتُ عَلَى فُقَرَائِهِمْ لَا أَنْ يَنْقُلَهَا إِلَى الْمُهَاجِرِينَ بِالْمَدِينَةِ الَّذِينَ أَكْثَرُهُمْ أَهْلُ فَيْءٍ لَا أَهْلُ صَدَقَةٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے یمن والوں سے کہا کہ تم میرے پاس خمیس یا پہنے ہوئے کپڑے لاؤ میں تم سے زکوٰۃ کے عوض وصول کروں گا کیونکہ وہ تمہارے لیے آسان ہے اور مہاجرینِ مدینہ کے لیے بہتر ہے۔
لیکن روایت میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرے پاس کپڑا لاؤ میں تم سے جوار اور جو کے عوض لوں گا۔
ابوبکر اسماعیلی رحمہ اللہ نے کہا: طاؤس کی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت جب مرسل ہو تو اس میں کوئی حجت نہیں، اور بعض راویوں نے اس میں صدقہ کی بجائے جزیہ کا لفظ کہا ہے۔