کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: زکوٰۃ میں زیادتی کرنے والا اسے روکنے والے کی طرح ہے، اور زیادتی کبھی زکوٰۃ وصول کرنے والے کی طرف سے ہوتی ہے اور کبھی مال کے مالک کی طرف سے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ أَبِي هَاشِمٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا " قَالَ قُتَيْبَةُ: كَانَ ابْنُ لَهِيعَةَ يَقُولُ: سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ الشَّيْخُ أَحْمَدُ: كَذَا يَقُولُهُ اللَّيْثُ سَعْدُ بْنُ سِنَانٍ، وَقَالَ غَيْرُهُ سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: الصَّحِيحُ عِنْدِي سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ وَسَعْدُ بْنُ سِنَانٍ خَطَأٌ، إِنَّمَا قَالَهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ مَرَّةً سِنَانٌ.
حافظ ثناء اللہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”زکوٰۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکوٰۃ روکنے والے کی مانند ہے۔“ امام بخاری فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک جو درست سند ہے وہ سنان بن سعد ہے اور سعد بن سنان غلط ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، ثنا حَرْمَلَةُ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ، حَدَّثَهُ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَالْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا " كَذَا قَالَ سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ وَكَذَلِكَ يَقُولُهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ وَقَالَهُ أَيْضًا أَبُو صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اس شخص کا ایمان نہیں جسے امانت کا پاس نہیں اور زکوٰۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا اسے روکنے والے کی مانند ہے۔“
حسن بصری رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا، جس پر زکوٰۃ واجب ہوچکی، پھر اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی حتیٰ کہ اس کا مال ہلاک ہوگیا تو جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس پر قرض ہے۔
حسن بصری رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا، جس پر زکوٰۃ واجب ہوچکی، پھر اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی حتیٰ کہ اس کا مال ہلاک ہوگیا تو جب تک وہ زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس پر قرض ہے۔
قَالَ الشَّيْخُ: وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي رَجُلٍ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يُزَكِّ حَتَّى ذَهَبَ مَالُهُ قَالَ: " هُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ حَتَّى يَقْضِيَهُ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعْدَانُ ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
معاذ بن معاذ رحمہ اللہ نے اشعث رحمہ اللہ سے روایت کی کہ انہوں نے حسن رحمہ اللہ کے واسطے سے اس حدیث کو بیان کیا۔