کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: زکوٰۃ وصول کرنے والا واجب مقدار سے زیادہ نہیں لے گا اور نہ ہی حاملہ اونٹنی لے گا، سوائے اس کے کہ مالک اپنی خوشی سے دے دے
حدیث نمبر: 7276
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُعَاذٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ: " إِنَّكَ سَتَأْتِي قَوْمًا أَهْلَ كِتَابٍ فَإِذَا جِئْتَهُمْ فَادْعُهُمْ إِلَى أَنْ يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ صَدَقَةً تُؤْخَذُ مِنَ أَغْنِيَائِهِمْ فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لَكَ بِذَلِكَ فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ اللهِ حِجَابٌ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدٍ وَغَيْرِهِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وُجُوهٍ أُخَرَ عَنْ زَكَرِيَّا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے فرمایا، جب انہیں یمن بھیجا: ”تم اہل کتاب کی ایک ایسی قوم کے پاس جاؤ گے، جب ان کے پاس آؤ تو انہیں دعوت دو کہ وہ یہ اقرار کریں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقیناً محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اگر وہ آپ کی بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان پر ایک دن و رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر وہ آپ کی یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے کہ وہ امیروں سے لے کر غریبوں کو دی جائے۔ اگر وہ آپ کی یہ بات بھی تسلیم کر لیں تو پھر تو ان کے عمدہ اموال سے بچو اور مظلوم کی بددعا سے بھی بچو، کیونکہ مظلوم اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔“
حدیث نمبر: 7277
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ إِسْحَاقَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ ⦗١٦٢⦘ مُسْلِمِ بْنِ ثَفِنَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَالَ الْحَسَنُ: رَوْحٌ يَقُولُ: مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَ: اسْتَعْمَلَ نَافِعُ بْنُ عَلْقَمَةَ أَبِي عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ فَأَمَرَهُ يُصْدِقُهُمْ قَالَ: بَعَثَنِي أَبِي فِي طَائِفَةٍ مِنْهُمْ فَأَتَيْتُ شَيْخًا كَبِيرًا يُقَالُ لَهُ سَعْرُ بْنُ دَيْسَمٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ يَعْنِي لِأُصْدِقَكَ قَالَ: ابْنَ أَخِي، وَأِيَّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ؟ قُلْتُ: نَخْتَارُ حَتَّى إِنَّا نَتَبَيَّنُ ضُرُوعَ الْغَنَمِ، قَالَ: ابْنَ أَخِي، فَإِنِّي أُحَدِّثُكَ أَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَنَمٍ لِي فَجَاءَنِي رَجُلَانِ عَلَى بَعِيرٍ فَقَالَا لِي: إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْكَ لِتُؤَدِّيَ صَدَقَةَ غَنَمِكَ فَقُلْتُ: مَا عَلَيَّ فِيهَا؟ فَقَالَا: شَاةٌ فَأَعْمِدُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَرَفْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةً مَحْضًا وَشَحْمًا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: هَذِهِ شَاةُ الشَّافِعِ وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا، قُلْتُ: فَأَيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟ قَالَا: عَنَاقًا جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً، قَالَ: فَأَعْمِدُ إِلَى عَنَاقٍ مُعْتَاطٍ، وَالْمُعْتَاطُ: الَّتِي لَمْ تَلِدْ وَلَدًا وَقَدْ حَانَ وِلَادُهَا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: نَاوِلْنَاهَا، فَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا ثُمَّ انْطَلَقَا. كَذَا قَالَ وَكِيعٌ مَحْضًا وَالصَّوَابُ مَخَاضًا، وَقَالَ: مُسْلِمُ بْنُ ثَفِنَةَ وَالصَّوَابُ مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ قَالَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ مِنَ الْحُفَّاظِ،.
حافظ ثناء اللہ
مسلم بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نافع بن علقمہ نے میرے والد کو اپنی قوم کے مالداروں پر عامل مقرر کیا اور انھیں حکم دیا کہ وہ ان سے سچ بیان کریں۔ فرماتے ہیں: مجھے میرے والد نے ان لوگوں میں بھیجا، میں ایک بوڑھے بزرگ کے پاس آیا جنہیں سعر بن وسیم کہا جاتا ہے، تو میں نے کہا: میرے ابا نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ آپ سے زکوٰۃ وصول کروں۔ انھوں نے کہا: اے میرے بھتیجے! تم کون سی قسم لیتے ہو؟ تو میں نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ بکریوں کی تعداد کا اندازہ لگا لیں۔ وہ کہنے لگے: اے بھتیجے! میں تجھے حدیث بیان کرتا ہوں، میں ان وادیوں میں سے ایک میں بکریاں چروا رہا تھا رسول اللہ ﷺ کے دور میں، تو میرے پاس دو آدمی اونٹ پر بیٹھ کر آئے، انھوں نے کہا: ”ہم رسول اللہ ﷺ کے ایلچی ہیں، آپ ﷺ نے تیری طرف بھیجا ہے کہ تو اپنی بکریوں کی زکوٰۃ دے۔“ میں نے کہا: مجھ پر کیا واجب ہے؟ تو انھوں نے کہا: ”بکری ہے۔“ تو میں ایک بکری کی طرف لپکا اور میں اس کی حیثیت کو جانتا ہوں کہ وہ بھری ہوئی اور موٹی تازی تھی، اسے میں نے ان کی طرف نکالا تو انھوں نے کہا: ”یہ عمدہ بکری ہے اور اس سے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے کہ ہم عمدہ کو قبول کریں۔“ میں نے کہا: تم کون سی لینا چاہتے ہو؟ انھوں نے کہا: ”درمیانی جو «جَذَعَة» ہو یا «ثَنِيَّة»۔“ فرماتے ہیں: پھر میں معتاط میمنہ کی طرف متوجہ ہوا۔ معتاط وہ ہوتا ہے جس نے بچہ نہ جنا ہو اور وہ ولادت کی عمر کو پہنچ چکی ہو، تو میں نے اسے ان کی طرف نکالا تو انھوں نے کہا: ”ہمیں پکڑاؤ۔“ تو انھوں نے اسے اپنے ساتھ اونٹ پر رکھا اور چل دیے۔ وکیع نے بھی ایسے ہی بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 7278
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ثنا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مُسْلِمُ بْنُ شُعْبَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ زَادَ فِيهِ وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا وَلَدُهَا.
حافظ ثناء اللہ
ابو سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے مسلم بن شعبہ رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی اور تمام حدیث بیان کی اور یہ بھی کہ «الشَّافِعُ» ”شافع وہ ہے جو اس کے پیٹ میں بچہ ہے۔“
حدیث نمبر: 7279
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الَحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَجَمَعَ لِي مَالَهُ فَلَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهَا إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدِّ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا صَدَقَتُكَ، فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ، وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ، وَهَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلْتُهُ وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَدْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ قَالَ: فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ مَعَهُ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: يَا نَبِيَّ اللهِ أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنْ صَدَقَةِ مَالِي، وَايْمُ اللهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولُهُ قَطُّ قَبْلَهُ فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلِيِّ فِيهِ ⦗١٦٣⦘ ابْنَةُ مَخَاضٍ وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً عَظِيمَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ وَهَا هِيَ ذِهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللهِ خُذْهَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ذَلِكَ الَّذِي عَلَيْكَ فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ آجَرَكَ اللهُ فِيهِ وَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ "، قَالَ فَهَا هِيَ ذِهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ. وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: نَاقَةً فِتْيَةً عَظِيمَةً سَمِينَةً.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے عامل بنا کر بھیجا، میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا تو اس نے اپنا مال جمع کیا، میں نے دیکھا کہ اس پر «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ واجب ہے تو میں نے اسے کہا: ”تم ایک «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ادا کر دو، یہی تمہاری زکوۃ ہے۔“ اس نے کہا: یہ وہ جانور ہوتا ہے جس میں نہ دودھ ہوتا ہے اور نہ ہی یہ سواری کے قابل ہوتی ہے، لیکن یہ ایک عمدہ اور جوان اونٹنی ہے، آپ اسے لے لیں۔ میں نے کہا: ”میں وہ چیز نہیں لوں گا جس کا مجھے حکم نہیں دیا گیا، اللہ کے رسول ﷺ قریب ہی تشریف فرما ہیں، اگر تم یہ دینا چاہتے ہو تو آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسے پیش کر دو، جو تم نے مجھے پیش کی ہے۔ اگر آپ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا تو میں بھی اسے قبول کر لوں گا اور اگر آپ ﷺ نے اسے رد فرما دیا تو میں بھی اسے واپس کر دوں گا۔“ اس نے کہا: میں ایسا ہی کروں گا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ پھر وہ میرے ساتھ چل دیا اور وہ اونٹنی بھی اس کے ساتھ تھی، یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! میرے پاس آپ کا عامل میرے مال کی زکوۃ لینے کے لیے آیا، اللہ کی قسم! اس سے پہلے میرے مال میں کبھی آپ کا کوئی قاصد نہیں آیا، میں نے اپنا مال اس کے سامنے جمع کر دیا تو ان کا خیال ہے کہ میرے مال کی زکوۃ صرف ایک «بِنْتُ مَخَاضٍ» ”بنت مخاض“ ہے، اور یہ وہ جانور ہے جس میں نہ دودھ ہے اور نہ ہی یہ سواری کے قابل ہے، تو میں نے اسے ایک عمدہ جوان اونٹنی پیش کی مگر اس نے اسے لینے سے انکار کر دیا، اور وہ یہی ہے جسے میں آپ ﷺ کے پاس لے کر آیا ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ اسے قبول فرما لیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تجھ پر واجب تو وہی ہے، البتہ اگر تو اپنی خوشی سے اس سے بہتر دینا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے اس کا اجر عطا فرمائے گا اور ہم اسے تجھ سے قبول کر لیں گے۔“ اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ یہی ہے، میں اسے آپ کی خدمت میں لایا ہوں، آپ اسے قبول فرما لیں۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے وصول کرنے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعا فرمائی۔