السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
باب: المعتدي في الصدقة كمانعها والاعتداء قد يكون من الساعي وقد يكون من رب المال باب: زکوٰۃ میں زیادتی کرنے والا اسے روکنے والے کی طرح ہے، اور زیادتی کبھی زکوٰۃ وصول کرنے والے کی طرف سے ہوتی ہے اور کبھی مال کے مالک کی طرف سے
حدیث نمبر: 7282
قَالَ الشَّيْخُ: وَقَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ فِي رَجُلٍ وَجَبَتْ عَلَيْهِ الزَّكَاةُ فَلَمْ يُزَكِّ حَتَّى ذَهَبَ مَالُهُ قَالَ: " هُوَ دَيْنٌ عَلَيْهِ حَتَّى يَقْضِيَهُ ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا سَعْدَانُ ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ عَنْ أَشْعَثَ عَنِ الْحَسَنِ فَذَكَرَهُ.حافظ ثناء اللہ
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حسن بصری رحمہ اللہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس پر زکوٰۃ واجب ہوچکی، پھر اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی حتیٰ کہ اس کا مال ختم ہوگیا: ”وہ اس پر قرض ہے یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے۔“
معاذ بن معاذ رحمہ اللہ نے اشعث رحمہ اللہ سے روایت کی کہ انہوں نے حسن رحمہ اللہ کے واسطے سے اسے بیان کیا۔