کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: زکوٰۃ وصول کرنے والا وصولی میں نہ بیمار جانور لے گا اور نہ ہی عیب دار، بشرطیکہ اونٹوں میں فرض زکوٰۃ کی تعداد صحیح سالم موجود ہو
حدیث نمبر: 7275
قَدْ رُوِّينَا فِي أَحَادِيثِ الصَّدَقَاتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَاتِ هَرِمَةٌ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ "، وَفِي بَعْضِهَا: " وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ "..
حافظ ثناء اللہ
ہمیں صدقات (زکوٰۃ) کی احادیث میں نبی کریم ﷺ سے یہ روایت پہنچی ہے کہ: ”اور زکوٰۃ میں کوئی انتہائی بوڑھا جانور وصول نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کوئی کانا (یا عیب دار) جانور۔“
اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں: ”اور نہ ہی کوئی عیب والا جانور (لیا جائے گا)۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7275
حدیث نمبر: 7275
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ. أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُعَاوِيَةَ الْغَاضِرِيَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " ثَلَاثٌ مَنْ فَعَلَهُنَّ فَقَدْ طَعِمَ طَعْمَ الْإِيمَانِ: مَنْ عَبَدَ اللهَ وَحْدَهُ فَإِنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَعْطَى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَةً بِهَا نَفْسُهُ رَافِدَةً عَلَيْهِ فِي كُلِّ عَامٍ، وَلَمْ يُعْطِ الْهَرِمَةَ وَلَا الدَّرِنَةَ وَلَا الشَّرَطَ اللَّائِمَةَ وَلَا الْمَرِيضَةَ وَلَكِنْ مِنَ أَوْسَطِ أَمْوَالِكُمْ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَسْأَلْكُمْ خَيْرَهُ، وَلَمْ يَأْمُرْكُمْ بِشَرِّهِ، وَزَكَّى عَبْدٌ نَفْسَهُ " فَقَالَ رَجُلٌ: مَا تَزْكِيَةُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " يَعْلَمُ أَنَّ اللهَ مَعَهُ حَيْثُ مَا كَانَ ". وَقَالَ غَيْرُهُ: " وَلَا الشَّرَطَ اللَّئِيمَةَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن معاویہ غاضری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تین کام کیے اس نے ایمان کی چاشنی چکھ لی: جس نے صرف ایک اللہ کی عبادت کی یہ جانتے ہوئے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، دوسرا اپنے مال کی زکات ہر سال طیبِ نفس سے ادا کی اور زکات میں بوڑھا، گھٹیا اور ملامت والا اور بیمار (جانور نہیں دیا) بلکہ اپنے درمیانے مال میں سے ادا کی۔ اللہ تعالیٰ تم سے عمدہ کا مطالبہ نہیں کرتا اور نہ ہی بری چیز کا حکم دیتا ہے بلکہ وہ انسان کے نفس کو پاکیزہ کرنا چاہتا ہے۔“ تو ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! تزکیہ نفس کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ یقین رکھے کہ اللہ انسان کے ساتھ ہوتا ہے وہ جہاں کہیں بھی ہوتا ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الزكاة / حدیث: 7275
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه أبو داؤد»