کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس خزانے کی تفسیر کا بیان جس کے بارے میں وعید وارد ہوئی ہے
حدیث نمبر: 7229
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجِسْتَانِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ، أنبأ أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ⦗١٣٩⦘ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ أَخُو زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ نَمْشِي فَلَحِقَنَا أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: أَنْتَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ: " نَعَمْ "، قَالَ: سَأَلْتُ عَنْكَ فَدُلِلْتُ عَلَيْكَ فَأَخْبِرْنِي أَتَرِثُ الْعَمَّةُ؟ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " لَا أَدْرِي " فَقَالَ: أَنْتَ ابْنُ عُمَرَ وَلَا تَدْرِي وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: أَنْتَ لَا تَدْرِي وَلَا نَدْرِي قَالَ: " نَعَمْ، اذْهَبْ إِلَى الْعُلَمَاءِ بِالْمَدِينَةِ فَسَلْهُمْ " فَلَمَّا أَدْبَرَ قَبَّلَ ابْنُ عُمَرَ يَدَيْهِ قَالَ: نِعِمَّا قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُسْأَلُ عَمَّا لَا يَدْرِي فَقَالَ لَا أَدْرِي، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ} [التوبة: ٣٤] فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: " مَنْ كَنَزَهُمَا وَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُمَا فَوَيْلٌ لَهُ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتْ جَعَلَهَا اللهُ طُهْرَةً لِلْأَمْوَالِ " ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: " مَا أُبَالِي لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا أَعْلَمُ عَدَدَهُ وَأُزَكِّيهِ وَأَعْمَلُ فِيهِ بِطَاعَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مُخْتَصَرًا فَقَالَ: وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ وَأَعَادَهُ فِي التَّفْسِيرِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ شَبِيبٍ.
حافظ ثناء اللہ
خالد بن اسلم فرماتے ہیں کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلے، ہم چل رہے تھے کہ ہمیں ایک اعرابی ملا، اس نے کہا: آپ عبداللہ بن عمر ہیں؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور آپ کی طرف ہی میری رہنمائی کی گئی ہے، آپ مجھے بتائیے: کیا پھوپھی وارث ہوتی ہے؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نہیں جانتا۔ اس نے کہا: آپ ابن عمر ہیں اور یہ نہیں جانتے؟ اس نے دوسری مرتبہ کہا: آپ بھی نہیں جانتے اور ہم بھی نہیں جانتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہاں، آپ علمائے مدینہ کے پاس جائیں اور ان سے پوچھیں۔ جب وہ پلٹا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا: ابو عبد الرحمن نے ٹھیک کہا ہے کہ وہ بات پوچھی جا رہی ہے جو وہ جانتا نہیں تو میں نہیں جانتا۔ تو اعرابی نے کہا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ﴾ [سورة التوبة: 34] ”جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں“۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس نے اسے جمع کیا اور اس میں سے زکاۃ ادا نہ کی تو اس کے لیے ہلاکت ہے۔ بیشک یہ زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے تھا، جب زکاۃ کا حکم نازل ہوا تو اسے اللہ تعالیٰ نے مال کی پاکیزگی کا باعث بنا دیا۔ پھر میری طرف دیکھا تو فرمایا: مجھے کوئی پروا نہیں اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی ہو، میں اس کی مقدار کو جانتا ہوں تو اسے پاک کرتا رہوں گا اور اس میں اللہ کے حکم کے تحت عمل کروں گا۔
حدیث نمبر: 7230
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " كُلُّ مَالٍ أَدَّيْتَ زَكَاتَهُ وَإِنْ كَانَ تَحْتَ سَبْعِ أَرَضِينَ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ، وَكُلُّ مَالٍ لَا تُؤَدِّي زَكَاتَهُ فَهُوَ كَنْزٌ وَإِنْ كَانَ ظَاهِرًا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ نَافِعٍ وَجَمَاعَةٌ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَقَدْ رَوَاهُ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مَرْفُوعًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: وہ تمام قسم کا مال جس کی زکاۃ ادا کی جائے، اگرچہ وہ ساتوں زمینوں کے نیچے بھی ہو وہ «كَنْزٌ» ”خزانہ“ نہیں ہے اور ہر وہ مال جس کی زکاۃ ادا نہ کی جائے وہ «كَنْزٌ» ”خزانہ“ ہے اگرچہ وہ زمین کے اوپر ٹھہرا ہو۔
حدیث نمبر: 7231
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، ثنا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّسَوِيُّ ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
عبدالعزیز فرماتے ہیں: ہمیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی معنی میں مرفوع حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 7232
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗١٤٠⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، وَهُوَ يُسْأَلُ عَنِ الْكَنْزِ، فَقَالَ: " هُوَ الْمَالُ الَّذِي لَا تُؤَدَّى مِنْهُ الزَّكَاةُ " هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے «الْكَنْزُ» کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: یہ وہ مال ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے۔
حدیث نمبر: 7233
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْعَدْلُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ عَامِرٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ، ثنا هَارُونُ بْنُ زِيَادٍ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ مَا أَدَّى زَكَاتَهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ وَإِنْ كَانَ مَدْفُونًا تَحْتَ الْأَرْضِ وَكُلُّ مَا لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ فَهُوَ كَنْزٌ وَإِنْ كَانَ ظَاهِرًا " لَيْسَ هَذَا بِمَحْفُوظٍ وَإِنَّمَا الْمَشْهُورُ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا کی جائے وہ کنز نہیں ہے، اگرچہ وہ زمین میں مدفون ہی کیوں نہ ہو اور ہر وہ مال جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی جائے وہ کنز ہے اگرچہ ظاہر پڑا ہو۔“
حدیث نمبر: 7234
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: " إِذَا أَدَّيْتِ زَكَاتَهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ وہ سونے کے پازیب پہنتی تھیں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ «كَنْزٌ» ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو اس کی زکوٰۃ ادا کر دے تو پھر وہ «كَنْزٌ» نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 7235
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ اللهِ التَّرْقُفِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا غَيْلَانُ يَعْنِي ابْنَ جَامِعٍ، عَنْ عُثْمَانَ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ} [التوبة: ٣٤] كَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَقَالُوا مَا يَسْتَطِيعُ أَحَدٌ مِنَّا يَدَعُ لِوَلَدِهِ مَالًا يَبْقَى بَعْدَهُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَنَا أُفَرِّجُ عَنْكُمْ، قَالُوا: فَانْطَلَقَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَاتَّبَعَهُ ثَوْبَانُ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ إِنَّهَ قَدْ كَبُرَ عَلَى أَصْحَابِكَ هَذِهِ الْآيَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَفْرِضِ الزَّكَاةَ إِلَّا لِيُطَيِّبَ بِهَا مَا بَقِيَ مِنْ أَمْوَالِكُمْ وَإِنَّمَا فَرَضَ الْمَوَارِيثَ فِي أَمْوَالٍ تَبْقَى بَعْدَكُمْ " قَالَ: فَكَبَّرَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكَ بِخَيْرِ مَا يَكْنِزُ الْمَرْءُ؟ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ إِذَا نَظَرَ إِلَيْهَا سَرَّتْهُ وَإِذَا أَمَرَهَا أَطَاعَتْهُ وَإِذَا غَابَ عَنْهَا حَفِظَتْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ﴾ [سورة التوبة: 34] ”جو لوگ سونے اور چاندی کو جمع کرتے ہیں“ تو یہ آیت مسلمانوں پر گراں گزری۔ انہوں نے کہا: ہم میں سے کوئی بھی طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اپنے بچے کے لیے کوئی مال چھوڑے جو اس کے بعد باقی رہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس پریشانی کو حل کرتا ہوں، تو عمر رضی اللہ عنہ اور ثوبان رضی اللہ عنہ دونوں نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور کہا: اے اللہ کے نبی! آپ کے صحابہ پر یہ آیت گراں گزری ہے، تو نبی ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ صرف اس لیے فرض کی ہے کہ تمہارے مالوں کو پاک کر دے جو مال باقی بچ رہے اور بیشک اس نے تمہارے باقی رہنے والے اموال میں وراثت مقرر کر دی ہے“، تو عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر بلند کی، پھر (نبی ﷺ نے) فرمایا: ”کیا میں تمہیں اس سے بہتر خزانے کی خبر نہ دوں جو انسان جمع کرتا ہے؟ وہ نیک بیوی ہے، جسے تو دیکھے تو خوش ہو جائے، اسے حکم دے تو وہ فرماں برداری کرے اور جب وہ غائب ہو تو وہ عورت اس کے مال و عزت کی حفاظت کرے۔“
حدیث نمبر: 7236
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِ إِسْنَادِهِ. وَقَصَّرَ بِهِ بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ يَحْيَى فَلَمْ يَذْكُرْ فِي إِسْنَادِهِ عُثْمَانَ أَبَا الْيَقْظَانِ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یحییٰ بن یعلیٰ بن حارث محاربی رحمہ اللہ نے اسی سند سے حدیث بیان کی ہے۔