کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس بات کی دلیل کا بیان کہ جس نے زکوٰۃ میں اللہ کا فرض ادا کر دیا تو اس پر اس سے زیادہ کچھ واجب نہیں سوائے اس کے کہ وہ اپنی مرضی سے نفلی صدقہ کرے، ماسوائے اس کے جو پچھلے باب میں گزر چکا ہے
حدیث نمبر: 7237
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ، ثنا عَفَّانُ، ثنا وُهَيْبٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ يَعْنِي التَّمِيمِيَّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، قَالَ: " تَعْبُدُ اللهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ يَعْنِي الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ "، قَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ: " مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ عَنْ عَفَّانَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيِّ عَنْ عَفَّانَ، وَحَدِيثُ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ قَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم ﷺ کے پاس آیا، عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتائیے، جب میں وہ عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اللہ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرا اور نماز قائم کرے یعنی فرض اور فرض زکوۃ ادا کر اور تو رمضان کے روزے رکھ“ تو اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں اس سے زیادہ نہیں کروں گا، جب وہ چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو کوئی جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہے وہ اسے دیکھ لے۔“
حدیث نمبر: 7238
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، قَالَ ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مُهَاجِرٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ أَذْهَبْتَ عَنْكَ شَرَّهُ " كَذَا رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مَرْفُوعًا وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، وَرَوَاهُ عِيسَى بْنُ مَثْرُودٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ مِنْ قَوْلِ أَبِي الزُّبَيْرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نے اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دی تو اس کے شر کو ختم کر دیا۔“
حدیث نمبر: 7239
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: " إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ كَنْزِكَ فَقَدْ ذَهَبَ شَرُّهُ " فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا وَهَذَا أَصَحُّ وَقَدْ رُوِيَ بِإِسْنَادٍ آخَرَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
ابوزبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نے اپنے کنز کی زکاۃ ادا کر دی تو اس کا شر ختم ہو گیا۔“
حدیث نمبر: 7240
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ وَمَنْ جَمَعَ مَالًا حَرَامًا ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو نے زکاۃ ادا کر دی تو تو نے وہ ادا کر دیا جو تجھ پر فرض ہے اور جس نے مالِ حرام اکٹھا کیا، پھر صدقہ کیا تو اسے اس کا کوئی اجر نہیں ملے گا بلکہ الٹا اس پر اس کا وبال پڑے گا۔“
حدیث نمبر: 7241
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَبَّاحٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ ⦗١٤٢⦘ عُذَافِرٍ الْبَصْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا: " مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَقَدْ أَدَّى الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْهِ وَمَنْ زَادَ فَهُوَ أَفْضَلُ " أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
حسن رحمہ اللہ نبی کریم ﷺ سے مرسلاً نقل فرماتے ہیں کہ ”جس نے اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کی، اس نے وہ حق ادا کر دیا جو اس پر تھا اور جس نے اضافی دیا، وہ اس کے لیے فضیلت کا باعث ہوگا۔“
حدیث نمبر: 7242
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، ثنا شَاذَانُ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَالَتْ: سُئِلَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَعْلُومٌ} قَالَ: " إِنَّ فِي هَذَا الْمَالِ حَقًّا سِوَى الزَّكَاةِ " وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَآتَى الْمَالَ عَلَى حُبِّهِ ذَوِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّائِلِينَ وَفِي الرِّقَابِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ} [البقرة: ١٧٧]، فَهَذَا حَدِيثٌ يُعْرَفُ بِأَبِي حَمْزَةَ مَيْمُونٍ الْأَعْوَرِ كُوفِيٍّ وَقَدْ جَرَّحَهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فَمَنْ بَعْدَهُمَا مِنْ حُفَّاظِ الْحَدِيثِ، وَالَّذِي يَرْوِيهِ أَصْحَابُنَا فِي التَّعَالِيقِ لَيْسَ فِي الْمَالِ حَقٌّ سِوَى الزَّكَاةِ فَلَسْتُ أَحْفَظُ فِيهِ إِسْنَادًا، وَالَّذِي رَوَيْتُ فِي مَعْنَاهُ مَا قَدَّمْتُ ذِكْرَهُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: ﴿وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ﴾ [سورة المعارج: 24] تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس مال میں زکاۃ کے سوا بھی حق ہے“ اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ...﴾ [سورة البقرة: 177] کہ ”مشرق و مغرب کی طرف منہ پھیر لینا ہی نیکی نہیں ہے بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا، فرشتوں اور کتابوں پر ایمان لایا اور انبیاء پر ایمان لایا اور اس کی محبت میں مال قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کو دیا اور مانگنے والوں کو بھی اور غلاموں کو آزاد کیا اور نماز قائم کی اور زکاۃ ادا کی۔“
اور جیسے ہمارے اصحاب نے تعالیق میں بیان کیا، وہ یہ ہے کہ مال میں کوئی حق نہیں سوائے زکاۃ کے۔ میں اس کی سند کو محفوظ نہیں جانتا اور جسے میں نے بیان کیا اس کا تذکرہ پہلے کہہ دیا ہے۔ واللہ اعلم۔
اور جیسے ہمارے اصحاب نے تعالیق میں بیان کیا، وہ یہ ہے کہ مال میں کوئی حق نہیں سوائے زکاۃ کے۔ میں اس کی سند کو محفوظ نہیں جانتا اور جسے میں نے بیان کیا اس کا تذکرہ پہلے کہہ دیا ہے۔ واللہ اعلم۔