کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے بارے میں وارد شدہ وعید کا بیان جس نے زکوٰۃ کے مال کو خزانہ بنا کر رکھا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہ کی
حدیث نمبر: 7222
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْوَرَّاقُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ.
حافظ ثناء اللہ
محمد بن زید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور پوری حدیث اسی طرح بیان کی۔
حدیث نمبر: 7223
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الرَّازِيُّ بِبُخَارَى، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيُّ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آتَاهُ اللهُ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي شِدْقَيْهِ ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} " ⦗١٣٧⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَرَوَاهُ مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ مَوْقُوفًا وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کو اللہ نے مال دیا، پھر اس نے اس کی زکوۃ ادا نہ کی تو اس کے مال کو بڑے اژدھے کی مانند بنایا جائے گا، جس کے دو ہونٹ ہوں گے تو وہ اس کا طوق بن جائے گا، پھر وہ اس کے جبڑوں کو پکڑے گا اور کہے گا: میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں“۔ پھر آپ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی: ﴿وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة آل عمران: 180] ”کہ نہ خیال کریں وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اس مال میں جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے کہ وہ ان کے لیے بہتر ہے، نہیں بلکہ وہ تو ان کے لیے شر ہے، عنقریب وہ بخل کی وجہ سے قیامت کے دن گلے میں طوق پہنائے جائیں گے“۔
حدیث نمبر: 7224
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعَ جَامِعَ بْنَ أَبِي رَاشِدٍ، وَعَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَعْيَنَ، سَمِعَا أَبَا وَائِلٍ، يُخْبِرُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ رَجُلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاةَ مَالِهِ إِلَّا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُطَوَّقَهُ فِي عُنُقِهِ " ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ}.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ ”جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا تو اس کے مال کو قیامت کے دن چتکبرے سانپ کی شکل دی جائے گی، مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اس کا پیچھا کرے گا، یہاں تک کہ وہ اس کی گردن کا طوق بن جائے گا۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ہم پر یہ آیت پڑھی: ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ [سورة آل عمران: 180]۔
حدیث نمبر: 7225
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ، حَدَّثَنِي أَبِي وَيَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ الْأُمَوِيُّ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ إِلَّا أُحْمِيَ عَلَيْهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، فَيُجْعَلُ صَفَائِحُ فَيُكْوَى بِهَا جَنْبَاهُ وَجَبِينُهُ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ وَمَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرَ مَا كَانَتْ تَسِيرُ عَلَيْهِ، كُلَّمَا مَضَى أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ، وَمَا مِنْ صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا بُطِحَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ كَأَوْفَرَ مَا كَانَتْ فَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا لَيْسَ فِيهَا عَقْصَاءُ وَلَا جَلْحَاءُ كُلَّمَا مَضَى عَلَيْهِ أُخْرَاهَا رُدَّتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَ عِبَادِهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ثُمَّ يَرَى سَبِيلَهُ إِمَّا إِلَى الْجَنَّةِ وَإِمَّا إِلَى النَّارِ " قَالَ سُهَيْلٌ: فَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الْبَقَرَ أَمْ لَا قَالُوا: فَالْخَيْلُ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " الْخَيْلُ فِي نَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " أَوْ قَالَ " الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " قَالَ سُهَيْلٌ أَنَا أَشُكُّ " الْخَيْلُ ثَلَاثَةٌ فَهِيَ لِرَجُلٍ أَجْرٌ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، فَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ أَجْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ وَيُعِدُّهَا لَهُ فَلَا يُغَيِّبُ شَيْئًا فِي بُطُونِهَا إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا وَلَوْ رَعَاهَا فِي مَرْجٍ مَا أَكَلَتْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِهَا أَجْرًا، وَلَوْ سَقَاهَا مِنْ نَهْرٍ كَانَ لَهُ بِكُلِّ قَطْرَةٍ يُغَيِّبُهَا فِي بُطُونِهَا أَجْرٌ حَتَّى ذَكَرَ الْأَجْرَ فِي أَبْوَالِهَا وَأَرْوَاثِهَا، وَلَوِ اسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ تَخْطُوهَا أَجْرًا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ لَهُ سِتْرٌ فَالرَّجُلُ يَتَّخِذُهَا تَكَرُّمًا وَتَجَمُّلًا، وَلَا يَنْسَى حَقَّ اللهِ فِي ظُهُورِهَا وَبُطُونِهَا فِي عُسْرِهَا وَيُسْرِهَا وَأَمَّا الَّذِي هِيَ ⦗١٣٨⦘ عَلَيْهِ وِزْرٌ فَالَّذِي يَتَّخِذُهَا أَشَرًا وَبَطَرًا وَبَذَخًا وَرِئَاءً لِلنَّاسِ فَذَاكَ الَّذِي عَلَيْهِ وِزْرٌ " قَالُوا: فَالْحُمُرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: " مَا أَنْزَلَ اللهُ عَلَيَّ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْجَامِعَةَ الْفَاذَّةَ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: ٨] "، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، وَرَوَاهُ حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ صَاحِبِ ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ لَا يُؤَدِّي مِنْهَا حَقَّهَا " فَذَكَرَهُ ثُمَّ ذَكَرَ الْإِبِلَ ثُمَّ ذَكَرَ الْبَقَرَ وَالْغَنَمَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو خزانے والا اس کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے دوزخ کی آگ میں گرم کیا جائے گا اور پلیٹوں کی مانند بنایا جائے گا۔ پھر اس سے اس کے پہلو اور پیشانی کو داغا جائے گا حتیٰ کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ نہ کر دیں، اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی کے مطابق پچاس ہزار سال ہو گی۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو اونٹوں والا اپنے اونٹوں کی زکوۃ ادا نہیں کرتا اسے صاف میدان میں لٹایا جائے گا اور اس کے زکوۃ نہ ادا کیے ہوئے اونٹوں کو اس پر سے گزارا جائے گا۔ جب آخری گزر جائے گا تو دوبارہ پھر پہلے کو لایا جائے گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا فیصلہ نہ کر دیں گے۔ اس دن جس کی مقدار تمہاری گنتی میں پچاس ہزار سال کے برابر ہو گی۔ پھر اسے اس کا راستہ جنت یا دوزخ کی طرف دکھایا جائے گا اور جو بکریوں والا ان کی زکوۃ ادا نہ کرے تو بکریاں اسے اپنے پاؤں سے روندیں گی اور سینگ ماریں گی۔ ان میں کوئی بغیر سینگوں کے نہیں ہو گی اور نہ کوئی لنگڑی ہو گی، جب اس پر سے آخری گزرے گی تو پہلی کو لایا جائے گا، یہاں تک کہ اللہ اپنے بندوں میں فیصلہ کر دیں اس دن جس کی مقدار تمہارے اندازے کے مطابق پچاس ہزار سال ہو گی، پھر اسے اس کا جنت یا دوزخ کا راستہ دکھایا جائے گا۔“ سہیل کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ ﷺ نے گائے کا تذکرہ کیا یا نہیں، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! گھوڑے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں قیامت تک بھلائی اللہ نے قیامت کے دن تک خیر و برکت باندھی ہے“ یا آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑے کی پیشانی میں باندھی گئی ہے“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”گھوڑا تین طرح کا ہے، یہ مالک کے لیے باعثِ اجر ہے اور باعثِ ستر (پردہ) اور باعثِ بوجھ ہو گا۔ سو وہ جو باعثِ اجر ہو گا وہ ہو گا جسے آدمی اللہ کی راہ میں وقف کر دے گا اور اسی کے لیے تیار کرے گا تو پھر اس کے پیٹ میں کوئی چیز غائب نہیں ہو گی۔ مگر اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھیں گے۔ اگر اس نے اسے چرا گاہ میں چرایا اور اس نے جو کھایا تو اللہ تعالیٰ اس کے عوض اس کے لیے اجر لکھ دیں گے یا اس نے اسے نہر سے پلایا تو اس کے لیے ہر قطرے کے عوض جو اس کے پیٹ میں اترا اس کا بھی اجر ہو گا، یہاں تک کہ فرمایا: اس کے بول و براز (گوبر) میں بھی اجر ہے اور اگر وہ ایک دو ٹیلوں پر چڑھا تو ہر قدم کے بدلے اسے اجر ہو گا، لیکن وہ جو اس کے لیے پردہ (دھال) ہو گا وہ یہ ہے جسے انسان خوبصورتی اور عظمت کے لیے رکھتا ہے، مگر وہ اس کی پیٹھ میں اللہ کا حق نہیں بھولتا اور نہ ہی اس کے پیٹ میں تنگی و آسانی میں، لیکن وہ جو اس کے لیے بوجھ ہو گا وہ یہ ہے جسے اس نے غرور و تکبر اور ریا و دکھلاوے کے لیے رکھا وہ یہ ہے جو اس کے لیے بوجھ ہو گا۔“ انہوں نے کہا: پھر گدھے کے بارے میں کیا ہے؟ اے اللہ کے رسول! تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں مجھ پر کوئی آیت نازل نہیں کی سوائے اس جامع آیت کے ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8]۔“
حفص بن میسرہ اور ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”جو سونے یا چاندی والا اس کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا، پھر اس کا تذکرہ کیا پھر گائے اور بکریوں کا بھی۔“
حفص بن میسرہ اور ہشام بن سعد فرماتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے: ”جو سونے یا چاندی والا اس کا حق (زکوۃ) ادا نہیں کرتا، پھر اس کا تذکرہ کیا پھر گائے اور بکریوں کا بھی۔“
حدیث نمبر: 7226
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا الْفِرْيَابِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " لَاوِي الصَّدَقَةِ مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " لَفْظُ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَارِثِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”صدقہ دے کر واپس لینے والا محمد ﷺ کی زبان سے قیامت کے دن ملعون ٹھہرایا گیا ہے۔“
حدیث نمبر: 7227
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ، فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَالشَّهِيدُ وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَفَقِيرٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَسُلْطَانٌ مُسَلَّطٌ وَذُو ثَرْوَةٍ مِنَ الْمَالِ لَمْ يُعْطِ حَقَّ مَالِهِ وَفَقِيرٌ فَجُورٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن تین قسم کے لوگ جو سب سے پہلے جنت اور جہنم میں داخل کیے جائیں گے، انہیں جنت میں میرے رو برو پیش کیا جائے گا، سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں سے شہید ہوگا اور دوسرا وہ ہوگا جس نے حقوق اللہ ادا کیے ہوں گے اور اپنے مالک کی خیر خواہی کی ہوگی اور تیسرا عیال دار فقیر ہوگا جو سوال کرنے سے بچتا رہا ہوگا اور جہنم میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں ایسا بادشاہ جو لوگوں پر مسلط ہوا ہوگا اور ایسا مال دار آدمی جس نے مال کا حق (زکوۃ) ادا نہ کی ہوگی اور فخر کرنے والا فقیر۔“
حدیث نمبر: 7228
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَوْلِهِ: {الْمَاعُونُ} [الماعون: ٧] قَالَ: " الزَّكَاةُ الْمَفْرُوضَةُ " وَهَذَا الْقَوْلُ أَيْضًا رُوِّينَاهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهِيَ إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي الْعَالِيَةِ وَالْحَسَنِ وَمُجَاهِدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿الْمَاعُونَ﴾ [سورة الماعون: 7] کے متعلق فرماتے ہیں: اس سے مراد فرض زکوٰۃ ہے اور اسی طرح یہ قول سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے۔