کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: قبروں کی زیارت کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: زَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى ⦗١٢٨⦘ وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ: " اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يَأْذَنْ لِي، فَاسْتَأْذَنْتُهُ فِي أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِي فَزُورُوا الْقُبُورَ؛ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْمَوْتَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو آپ ﷺ رو دیے اور جو ارد گرد تھے ان کو بھی رلا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے ان کی بخشش کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ ملی، پھر میں نے زیارتِ قبر کی اجازت طلب کی تو وہ مجھے مل گئی، سو تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو، یقیناً وہ تمہیں موت یاد دلاتی ہیں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7192
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ خَالِدٍ ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبًا مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَفَدَاهُ بِالْأَبِ وَالْأُمِّ وَقَالَ لَهُ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي اسْتِغْفَارِي لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَبَكَيْتُ لَهَا رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَكُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَكُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أِيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ زُهَيْرٍ دُونَ قِصَّةِ أُمِّهِ..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم ایک جگہ اترے اور ہم ہزار سواروں کے قریب تھے۔ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے والدہ کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں رو دیا۔ آگ سے رحمت کے لیے اور میں تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا کرتا تھا، سو تم زیارت کیا کرو اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ جمع کرنے سے روکا تھا، سو اب تم کھاؤ اور جب تک چاہو جمع رکھو اور میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں کھانے سے منع کیا کرتا تھا، اب جس برتن میں چاہو کھاؤ مگر نشہ آور چیز نہ پیو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7193
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أحمد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا زُبَيْدُ بْنُ الْحَارِثِ الْيَامِيُّ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَزُورُوهَا وَلْتُزِدْكُمْ زِيَارَتُهَا خَيْرًا " وَرَوَاهَا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا تَذْكِرَةً ".
حافظ ثناء اللہ
زہیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زبیر بن حارث یامی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو اسی سند کے ساتھ بیان کیا، سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: ”سو تم ان کی زیارت کیا کرو، اس کی زیارت تمہارے لیے بھلائی میں اضافہ کرے گی۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7194
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم قبله»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُعَرِّفُ بْنُ وَاصِلٍ، فَذَكَرَهُ مُخْتَصَرًا فِي النَّهْيِ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَالْإِذْنِ فِيهَا فَقَطْ.
حافظ ثناء اللہ
احمد بن یونس فرماتے ہیں کہ معرف بن واصل نے ہمیں حدیث بیان کی اور اس میں زیارتِ قبور سے نہی مختصراً بیان کی اور اس کی اجازت بھی دی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7195
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، قَالَا: أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ وَاسِعَ بْنَ حَبَّانَ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِيهَا عِبْرَةً وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ أَلَا فَانْتَبِذُوا وَلَا أُحِلُّ مُسْكِرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا۔ سو ان کی زیارت کیا کرو، بیشک اس میں عبرت ہے اور میں تمہیں نبیذ سے منع کیا کرتا تھا، نبیذ بناؤ سو اب، مگر نشہ آور کو میں حلال نہیں کر رہا اور میں تمہیں قربانی کے گوشت (کو جمع کرنے) سے روکتا تھا سو تم اسے کھاؤ اور جمع کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7196
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ أخرجه أحمد»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَأَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ وَعَنْ نَبِيذِ الْأَوْعِيَةِ أَلَا فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ وَكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَابْقُوا مَا شِئْتُمْ فَإِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ إِذِ الْخَيْرُ قَلِيلٌ فَوَسَّعَهُ اللهُ عَلَى النَّاسِ، أَلَا إِنَّ وِعَاءً لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا وَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا اور تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت سے بھی اور نبیذ کے برتنوں سے بھی۔ سو قبروں کی زیارت کیا کرو، بیشک وہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں اور قربانی کا گوشت کھاؤ اور جس قدر چاہے باقی رکھو، میں تمہیں تب منع کیا کرتا تھا جب مال و زر کم تھا، اب اللہ نے لوگوں پر فراخی کر دی ہے۔ بیشک برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتے مگر ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7197
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ ابن ماجه»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ زَيْدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَلَوِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُنَيْنِ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ طَهْمَانَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَالْأَوْعِيَةَ وَزِيَارَةَ الْقُبُورِ ثُمَّ ذَكَرَ إِذْنَهُ فِيهَا بِطُولِهِ قَالَ: " وَكُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ثُمَّ بَدَا لِي فَزُورُوهَا فَإِنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ فَزُورُوا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرٍو.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا اور قربانی کے گوشت کا تذکرہ کیا اور برتنوں کا اور قبروں کی زیارت کا بھی، پھر ان سب کی اجازت کا تذکرہ کیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ ”میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا، تم ان کی زیارت کیا کرو، بیشک وہ دل نرم کرتی ہیں اور آنسو بہاتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں، سو تم زیارت کرو مگر بین نہ کرو۔“ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں زیارتِ قبور سے روکتا تھا، سو اب تم زیارت کیا کرو، لیکن بین نہ کیا کرو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7198
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه أحمد»
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، فِي آخَرِينَ قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ مَالِكٌ، فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں مالک نے خبر دی اور یہی حدیث بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7199
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيرهٖ
تخریج حدیث «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه مالك»