حدیث نمبر: 7197
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ مَسْرُوقِ بْنِ الْأَجْدَعِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَأَكْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ وَعَنْ نَبِيذِ الْأَوْعِيَةِ أَلَا فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُزَهِّدُ فِي الدُّنْيَا وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ وَكُلُوا لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَابْقُوا مَا شِئْتُمْ فَإِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ إِذِ الْخَيْرُ قَلِيلٌ فَوَسَّعَهُ اللهُ عَلَى النَّاسِ، أَلَا إِنَّ وِعَاءً لَا يُحَرِّمُ شَيْئًا وَإِنَّ كُلَّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا کرتا تھا اور تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت سے بھی اور نبیذ کے برتنوں سے بھی۔ سو قبروں کی زیارت کیا کرو، بیشک وہ دنیا سے بے رغبتی پیدا کرتی ہیں اور آخرت کی یاد دلاتی ہیں اور قربانی کا گوشت کھاؤ اور جس قدر چاہے باقی رکھو، میں تمہیں تب منع کیا کرتا تھا جب مال و زر کم تھا، اب اللہ نے لوگوں پر فراخی کر دی ہے۔ بیشک برتن کسی چیز کو حرام نہیں کرتے مگر ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 7197
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ ابن ماجه»