أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ خَالِدٍ ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبًا مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَفَدَاهُ بِالْأَبِ وَالْأُمِّ وَقَالَ لَهُ مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: " إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي اسْتِغْفَارِي لِأُمِّي فَلَمْ يَأْذَنْ لِي فَبَكَيْتُ لَهَا رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَكُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَكُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنِ الشُّرْبِ فِي الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِي أِيِّ وِعَاءٍ شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ زُهَيْرٍ دُونَ قِصَّةِ أُمِّهِ..ابن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، ہم ایک جگہ اترے اور ہم ہزار سواروں کے قریب تھے۔ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور دو رکعتیں پڑھیں، پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور آپ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ کی طرف کھڑے ہوئے اور کہا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب سے والدہ کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں رو دیا۔ آگ سے رحمت کے لیے اور میں تمہیں زیارتِ قبور سے منع کیا کرتا تھا، سو تم زیارت کیا کرو اور میں نے تمہیں قربانی کے گوشت کو تین دن سے زیادہ جمع کرنے سے روکا تھا، سو اب تم کھاؤ اور جب تک چاہو جمع رکھو اور میں نے تمہیں کچھ برتنوں میں پینے سے منع کیا کرتا تھا، اب جس برتن میں چاہو پیو مگر نشہ آور چیز نہ پیو۔“