کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: عورتوں کو جنازوں کے پیچھے چلنے سے روکنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان
حدیث نمبر: 7200
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ، بِبَغْدَادَ أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: " نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا اور ہم پر (اسے) لازم نہیں کیا گیا۔
حدیث نمبر: 7201
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نِسْوَةً جُلُوسًا فَقَالَ: " ⦗١٣٠⦘ مَا يُجْلِسُكُنَّ " فَقُلْنَ: الْجِنَازَةُ، فَقَالَ: " أَتَحْمِلْنَ فِيمَنْ يَحْمِلُ؟ " قُلْنَ: لَا. قَالَ: " أَفَتُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي " قُلْنَ: لَا. قَالَ: " أَفَتَغْسِلْنَ فِيمَنْ يَغْسِلُ " قُلْنَ: لَا، قَالَ: " فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ " وَفِي حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ " مَوْزُورَاتٍ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ ایک جنازے میں نکلے تو آپ ﷺ نے بیٹھی ہوئی عورتوں کو دیکھا تو فرمایا: ”تمہیں کس نے بٹھایا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: جنازے نے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان کے ساتھ اٹھاؤ گی جیسے وہ اسے اٹھائیں گے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان کے ساتھ اسے دفن کرو گی جیسے وہ دفن کریں گے؟“ تو انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم غسل دینے والوں کے ساتھ غسل دو گی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر پلٹ جاؤ، تمہارے لیے ممنوع ہے، اس پر اجر نہیں ملے گا۔“
حدیث نمبر: 7202
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنِسْوَةٍ فَقَالَ: " مَا لَكُنَّ " قُلْنَ: نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " فَتَحْثَيْنَ فِيمَنْ يَحْثُوا " قُلْنَ: لَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْغُسْلَ.
حافظ ثناء اللہ
اسرائیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”تمہیں کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں۔۔۔ پھر پوری حدیث بیان کی، سوائے اس کے کہ فرمایا: ”کیا تم مٹی ڈالنے والوں کے ساتھ مٹی ڈالو گی؟“ تو انہوں نے کہا: نہیں اور غسل کا تذکرہ نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 7203
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا: " مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ يَا فَاطِمَةُ؟ " فَقَالَتْ: أَقْبَلْتُ مِنْ وَرَاءِ جِنَازَةِ هَذَا الرَّجُلِ قَالَ: " هَلْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟ " فَقَالَتْ: لَا وَكَيْفَ أَبْلُغُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو پوچھا: ”کہاں سے آئی ہو؟“ تو انہوں نے کہا: اس جنازے کے پیچھے سے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تو ان کے ساتھ قبرستان پہنچی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، میں کیسے پہنچ سکتی ہوں جب کہ میں نے آپ ﷺ سے (اس بارے میں) سنا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر تو ان کے ساتھ چلی جاتی تو جنت نہ دیکھ پاتی، جب تک تیرے والد کا دادا نہ دیکھ پائے۔“