کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قبر کو کپڑے سے پردہ کرنے (ڈھانپنے) کے بارے میں مروی روایات کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَلَّلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرَ سَعْدٍ بِثَوْبِهِ لَا أَحْفَظُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سعد کی قبر کو کپڑے سے ڈھانپا۔
یہ روایت مجھے صرف یحییٰ بن عقبہ بن ابی العیزار کی حدیث سے معلوم ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
یہ روایت مجھے صرف یحییٰ بن عقبہ بن ابی العیزار کی حدیث سے معلوم ہے، اور وہ ضعیف ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ: أَنَّهُ حَضَرَ جِنَازَةَ الْحَارِثِ الْأَعْوَرِ فَأَبَى عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ أَنْ يَبْسُطُوا عَلَيْهِ ثَوْبًا، وَقَالَ: " إِنَّهُ رَجُلٌ " قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ قَدْ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَإِنْ كَانَ مَوْقُوفًا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ.
حافظ ثناء اللہ
زہیر، ابو اسحاق رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حارث اعور کے جنازے میں شامل ہوئے، عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے اس سے انکار کیا کہ وہ اس پر کپڑا پھیلائیں اور انہوں نے کہا کہ یہ تو مرد ہے، ابو اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا۔
یہ سند صحیح ہے، اگرچہ یہ موقوف ہے، اسے ایک جماعت نے ابو اسحاق سے روایت کیا ہے۔
یہ سند صحیح ہے، اگرچہ یہ موقوف ہے، اسے ایک جماعت نے ابو اسحاق سے روایت کیا ہے۔
وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَاهُمْ قَالَ: وَنَحْنُ نَدْفِنُ مَيِّتًا وَقَدْ بُسِطَ الثَّوْبُ عَلَى قَبْرِهِ فَجَذَبَ الثَّوْبَ مِنَ الْقَبْرِ وَقَالَ: " إِنَّمَا يُصْنَعُ هَذَا بِالنِّسَاءِ " أَخْبَرَنَاهُ ابْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عَارِمٌ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرَهُ. وَهُوَ فِي مَعْنَى الْمُنْقَطِعِ لِجَهَالَةِ الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
حافظ ثناء اللہ
علی بن حکم نے اہل کوفہ کے ایک شخص سے نقل کیا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور ہم ایک میت کو دفن کر رہے تھے اور اس قبر پر کپڑا بھی پھیلا رکھا تھا، تو انہوں (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) نے قبر سے کپڑا کھینچ لیا اور فرمایا: یہ تو عورتوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
یہ روایت منقطع کے حکم میں ہے، کیونکہ اہل کوفہ کا وہ شخص مجہول ہے۔
یہ روایت منقطع کے حکم میں ہے، کیونکہ اہل کوفہ کا وہ شخص مجہول ہے۔