کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا ہے کہ میت کو قبر کی پائینتی (پاؤں والی) جانب سے داخل کیا جائے گا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: أَوْصَى الْحَارِثُ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ثُمَّ أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ، وَقَالَ: " هَذَا مِنَ السُّنَّةِ " هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ قَالَ هَذَا مِنَ السُّنَّةِ فَصَارَ كَالْمُسْنَدِ. وَقَدْ رُوِّينَا هَذَا الْقَوْلَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حارث نے سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو جنازے کی وصیت کی۔ پھر اسے پاؤں کی جانب سے قبر میں داخل کیا گیا اور فرمایا: ”یہ سنت ہے۔“
یہ سند صحیح ہے، اور چونکہ انہوں نے کہا کہ یہ سنت ہے، اس لیے یہ مسند (مرفوع) کی طرح ہو گئی۔ اور ہم نے یہ قول ابن عمر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایت کیا ہے۔
یہ سند صحیح ہے، اور چونکہ انہوں نے کہا کہ یہ سنت ہے، اس لیے یہ مسند (مرفوع) کی طرح ہو گئی۔ اور ہم نے یہ قول ابن عمر اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم سے بھی روایت کیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ ⦗٩٠⦘ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، وَغَيْرُهُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُوسَى، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُلَّ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج رحمہ اللہ، عمران بن موسیٰ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سر کی جانب سے لحد میں اتارا گیا۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ الثِّقَةُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " سُلَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سر کی جانب سے لحد میں اتارے گئے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، وَرَبِيعَةَ، وَأَبِي النَّضْرِ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِي ذَلِكَ: " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُلَّ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا " قَالَ الشَّيْخُ: هَذَا هُوَ الْمَشْهُورُ فِيمَا بَيْنَ أَهْلِ الْحِجَازِ.
حافظ ثناء اللہ
ابوالزناد، ربیعہ اور ابوالنضر تینوں بغیر کسی اختلاف کے بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سر کی جانب سے لحد میں اتارے گئے۔ شیخ فرماتے ہیں: یہ طریقہ اہل حجاز میں مشہور ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا أَبُو بُرْدَةَ، فِي مَنْزِلِهِ، ثنا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " أُدْخِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَأُلْحِدَ لَهُ لَحْدٌ وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصْبًا " أَبُو بُرْدَةَ هَذَا هُوَ عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ التَّمِيمِيُّ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي الْحَدِيثِ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن بریدہ اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو قبلہ کی طرف سے لحد میں داخل کیا گیا اور آپ کے لیے لحد تیار کی گئی جس پر اینٹیں نصب کی گئیں۔
یہ ابو بردہ، عمرو بن یزید تمیمی کوفی ہے اور وہ حدیث میں ضعیف ہے، اسے یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
یہ ابو بردہ، عمرو بن یزید تمیمی کوفی ہے اور وہ حدیث میں ضعیف ہے، اسے یحییٰ بن معین وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْرًا لَيْلًا وَأُسْرِجَ لَهُ سِرَاجٌ وَأَخَذَهُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ: " رَحِمَكَ اللهُ إِنْ كُنْتَ لَأَوَّاهًا تَالِيًا لِلْقُرْآنِ " ⦗٩١⦘ هَذَا إِسْنَادٌ ضَعِيفٌ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَالَّذِي ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ أَشْهَرُ فِي أَرْضِ الْحِجَازِ يَأْخُذُهُ الْخَلَفُ عَنِ السَّلَفِ فَهُوَ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو قبر میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے لیے چراغ روشن کیا گیا اور آپ کو قبلے کی جانب سے پکڑا گیا اور چار تکبیرات کہیں، پھر فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے، بیشک تو بردبار تھا اور قرآن کی تلاوت کرنے والا تھا۔“
یہ سند ضعیف ہے، اور یہ ایک اور ضعیف سند سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن جس کا امام شافعی رحمہ اللہ نے تذکرہ کیا ہے وہ ارضِ حجاز میں عام ہے اور یہ طریقہ خلف نے سلف سے لیا ہے اور یہ اتباع کے زیادہ لائق ہے۔
یہ سند ضعیف ہے، اور یہ ایک اور ضعیف سند سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، لیکن جس کا امام شافعی رحمہ اللہ نے تذکرہ کیا ہے وہ ارضِ حجاز میں عام ہے اور یہ طریقہ خلف نے سلف سے لیا ہے اور یہ اتباع کے زیادہ لائق ہے۔