کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: میت کو قبر میں مرد حضرات اتاریں گے اور ان میں سے جو زیادہ فقیہ اور میت کا زیادہ قریبی رشتہ دار ہو (وہ زیادہ حق دار ہے)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا زُهَيْرٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: غَسَّلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيٌّ، وَالْفَضْلُ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَهُمْ أَدْخَلُوهُ قَبْرَهَ. قَالَ وَحَدَّثَنِي مَرْحَبٌ أَوِ ابْنُ أَبِي مَرْحَبٍ أَنَّهُمْ أَدْخَلُوا مَعَهُمْ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمَّا فَرَغَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِنَّمَا يَلِي الرَّجُلَ أَهْلُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
عامر شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو سیدنا علی، سیدنا فضل اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے غسل دیا اور انہوں نے ہی آپ کو قبر میں داخل کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے مرحب یا ابن ابی مرحب نے حدیث بیان کی کہ ان کے ساتھ آپ کو قبر میں اتارتے وقت سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بھی تھے، جب آپ کو دفن کر کے فارغ ہوئے تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: آدمی کے قریب اس کا اہل ہوتا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مَرْحَبٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ: نَزَلَ فِي قَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِمْ أَرْبَعَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن ابی مرحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کی قبر مبارک میں اترے، گویا کہ میں ان چار آدمیوں کو دیکھ رہا ہوں۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " غَسَّلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ مَا يَكُونُ مِنَ الْمَيِّتِ فَلَمْ أَرَ شَيْئًا وَكَانَ طَيِّبًا حَيًّا وَمَيِّتًا، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، وَوَلِيَ دَفْنَهَ وَأَجْنَانَهُ دُونَ النَّاسِ أَرْبَعَةٌ عَلِيٌّ، وَالْعَبَّاسُ، وَالْفَضْلُ، وَصَالِحٌ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ، وَلُحِدَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْدًا وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبَنُ نَصْبًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا، میں نے آپ ﷺ میں وہ چیز دیکھنی چاہی جو میت میں دیکھی جاتی ہے تو مجھے کوئی چیز نظر نہ آئی، میں نے آپ ﷺ کو زندہ اور فوت ہوتے ہوئے پاک حالت میں دیکھا اور آپ ﷺ کی تدفین چار آدمیوں کے سپرد ہوئی: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا عباس، سیدنا فضل رضی اللہ عنہما اور رسول اللہ ﷺ کے غلام صالح رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ ﷺ کے لیے لحد بنائی گئی اور اس پر کچی اینٹیں نصب کی گئیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كَانَ الَّذِينَ نَزَلُوا فِي قَبْرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَقُثَمُ بْنُ الْعَبَّاسِ، وَشُقْرَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٨٨⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ "، وَقَدْ قَالَ أَوْسُ بْنُ خَوْلِيٍّ: لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا عَلِيُّ أَنْشُدُكَ اللهَ وَحَظَّنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: " انْزِلْ فَنَزَلَ مَعَ الْقَوْمِ فَكَانُوا خَمْسَةً " قَالَ الشَّيْخُ: وَشُقْرَانُ هُوَ صَالِحٌ مَوْلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَبُهُ شُقْرَانُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ کی قبر میں اترے تھے، ان میں سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا فضل بن عباس، سیدنا قثم بن عباس رضی اللہ عنہم اور رسول اللہ ﷺ کے غلام سیدنا شقران رضی اللہ عنہ تھے۔ سیدنا اوس بن خولی رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ میں تجھے اللہ کا واسطہ اور رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری کے لحاظ سے سوال کرتا ہوں، انہوں نے فرمایا: اترو، تو وہ بھی لوگوں کے ساتھ اترے تو ان کی تعداد پانچ تھی۔ شیخ نے فرمایا: شقران رسول اللہ ﷺ کے غلام صالح کا لقب ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ الشَّيْبَانِيُّ، بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: رَأَى نَاسٌ نَارًا فِي الْمَقْبَرَةِ فَأَتَوْهَا فَإِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقَبْرِ وَإِذَا هُوَ يَقُولُ: " نَاوِلُونِي صَاحِبَكُمْ وَإِذَا هُوَ الرَّجُلُ الْأَوَّاهُ الَّذِي يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالذِّكْرِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں نے قبرستان میں آگ دیکھی تو وہ وہاں آئے، تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ قبر میں ہیں اور فرما رہے تھے: ”مجھے اپنے ساتھی کو پکڑاؤ“ جبکہ وہ وہ شخص تھا جو ذکر کے وقت اپنی آواز بلند کرتا تھا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا فُلَيْحٌ، أنبأ هِلَالٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ فَقَالَ: " هَلْ مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟ " فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: أَنَا، قَالَ: " فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا " فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا، وَقَالَ يُونُسُ: " هَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانٍ. قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ فُلَيْحٍ: أُرَاهُ لَمْ يُقَارِفْ: يَعْنِي الذَّنْبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کی وفات پر آپ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ ﷺ ان کی قبر پر بیٹھے تھے، آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی ہے جو آج رات اپنے اہل کے پاس نہ گیا ہو؟“ تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی قبر میں اتر۔“ تو وہ قبر میں اترے اور یونس نے «هَلْ مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ» کے الفاظ نقل کیے ہیں۔
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أنبأ أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: شَهِدْنَا ابْنَةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ فَقَالَ: " هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟ " فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ وَأَبُو ذَرٍّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا " قَالَ فُلَيْحٌ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يَعْنِي الذَّنْبَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کی ایک بیٹی (کی تدفین) پر حاضر ہوئے اور رسول اللہ ﷺ قبر پر بیٹھے ہوئے تھے، میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جس نے آج رات (کسی چیز کا) ارتکاب نہ کیا ہو؟“ تو سیدنا ابو طلحہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں، اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کی قبر میں اتر۔“ فلیح کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ اس سے مراد گناہ ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَبَّرَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَرْبَعًا، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُدْخِلُ هَذِهِ قَبْرَهَا؟ فَقُلْنَ: مَنْ كَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا فِي حَيَاتِهَا وَرُوِّينَاهُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ فَزَادَ فِيهِ وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْجِبُهُ أَنْ يُدْخِلَهَا قَبْرَهَا فَلَمَّا قُلْنَ مَا قُلْنَ قَالَ: " صَدَقْنَ ".
حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا پر چار تکبیرات کہیں، پھر ازواجِ نبی ﷺ کی طرف پیغام بھیجا کہ اسے قبر میں کون اتارے؟ تو انہوں نے کہا: جو ان کی زندگی میں ان کے پاس آتا تھا۔
یعلیٰ بن عبید اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں یہ بات زیادہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ پسند کرتے تھے کہ وہ انہیں قبر میں داخل کریں، سو جب انہوں نے کہا جو کہا: تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا انہوں نے سچ کہا۔
یعلیٰ بن عبید اسماعیل سے نقل فرماتے ہیں اور اس میں یہ بات زیادہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ پسند کرتے تھے کہ وہ انہیں قبر میں داخل کریں، سو جب انہوں نے کہا جو کہا: تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا انہوں نے سچ کہا۔