کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: رات کے وقت دفن کرنے کی ممانعت کے بارے میں وارد شدہ حدیث کا ذکر اور اس بات کا بیان کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کہیں اس کی نماز جنازہ فوت نہ ہو جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور اپنے صحابہ میں سے ایک کا تذکرہ کیا جو فوت ہو گیا اور اسے کوئی عمدہ کفن نہ دیا گیا اور رات ہی میں دفن کر دیا گیا تو نبی کریم ﷺ نے ڈانٹا اور فرمایا: ”جب تک جنازہ نہ پڑھا جائے رات کو دفن نہ کرو، مگر یہ کہ کوئی مجبوری ہو“ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَلْتَقِطُ الْخِرَقَ وَالْعِيدَانَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " أَيْنَ فُلَانَةُ "، قَالُوا: مَاتَتْ، قَالَ: " أَفَلَا آذَنْتُمُونِي "، قَالُوا مَاتَتْ مِنَ اللَّيْلِ وَدُفِنَتْ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا وَقَالَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا تَدَعُوا أَنْ تُؤْذِنُونِي ".
حافظ ثناء اللہ
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کالی عورت کو گم پایا جو مسجد سے تنکے وغیرہ اٹھاتی اور صفائی کرتی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاں عورت کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ فوت ہو چکی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟“ انہوں نے کہا: وہ رات کو فوت ہوئی تھی اور دفن کر دی گئی۔ ہم نے آپ ﷺ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا تو رسول اللہ ﷺ اس کی قبر پر گئے اور نمازِ جنازہ پڑھی اور فرمایا: ”جب مسلمانوں میں سے کوئی فوت ہو جائے تو مجھے ضرور اطلاع کیا کرو۔“