السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: ذكر الخبر الوارد في النهي عن الدفن بالليل والبيان أن المراد به كيلا تفوته الصلاة على الجنازة باب: رات کے وقت دفن کرنے کی ممانعت کے بارے میں وارد شدہ حدیث کا ذکر اور اس بات کا بیان کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کہیں اس کی نماز جنازہ فوت نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 6917
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا حَجَّاجُ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ، يُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ قُبِضَ فَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُضْطَرُّوا إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور اپنے صحابہ میں سے ایک کا تذکرہ کیا جو فوت ہو گیا اور اسے کوئی عمدہ کفن نہ دیا گیا اور رات ہی میں دفن کر دیا گیا تو نبی کریم ﷺ نے ڈانٹا اور فرمایا: ”جب تک جنازہ نہ پڑھا جائے رات کو دفن نہ کرو، مگر یہ کہ کوئی مجبوری ہو“ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اچھا کفن دے۔“