کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: ان لوگوں کے قول کا بیان جنہوں نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور دفن کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، قَالَا: أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَعْنِي الْجُهَنِيَّ يَقُولُ: " ثَلَاثَ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَهَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین اوقات میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے: ”جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، جب وہ دوپہر کے وقت (آسمان کے وسط میں) ٹھہرا ہو یہاں تک کہ وہ ایک طرف جھک جائے اور جب سورج غروب کے قریب ہو یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر غروب ہو جائے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6913
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه المسلم»
وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ، وَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُقْبَةَ أَيُدْفَنُ بِاللَّيْلِ، قَالَ: نَعَمْ قَدْ دُفِنَ أَبُو بَكْرٍ بِاللَّيْلِ، أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن زریع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں روح بن قاسم رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی تو انہوں نے اسی حدیث کا تذکرہ کیا۔
اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ میں نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا رات کو دفن کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رات کو دفن کیا گیا تھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6914
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الاوسط»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ: أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تُوُفِّيَتْ وَطَارِقٌ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَأُتِيَ بِجِنَازَتِهَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوُضِعَتْ بِالْبَقِيعِ، قَالَ وَكَانَ طَارِقٌ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ لِأَهْلِهَا " إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَى جِنَازَتِكُمُ الْآنَ، وَإِمَّا أَنْ تَتْرُكُوهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابوحرمُلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں اور طارق مدینہ کے امیر تھے، ان کا جنازہ فجر کی نماز کے بعد لایا گیا اور اسے بقیع میں رکھا گیا، اور طارق اندھیرے میں نمازِ فجر پڑھتے تھے۔ ابوحرمُلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ ان کے گھر والوں سے کہہ رہے تھے کہ اب اگر تم جنازہ پڑھ لو تو درست ہے کہ تم اسی وقت جنازہ پڑھو یا پھر سورج بلند ہونے تک انتظار کرو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6915
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه مالك»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي ⦗٥٢⦘ عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ عَلِيًّا، أَخْبَرَهُ: " أَنَّ جِنَازَةً وُضِعَتْ فِي مَقْبَرَةِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ حِينَ اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَ أَبُو بَرْزَةَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ أَقَامَهَا فَتَقَدَّمَ أَبُو بَرْزَةَ، فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ وَفِي النَّاسِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو بَرْزَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّوْا عَلَى الْجِنَازَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ علی نے انہیں خبر دی کہ اہل بصرہ کے قبرستان میں ایک جنازہ رکھا گیا، جب دھوپ زرد ہو چکی تھی، تو سورج کے غروب ہونے تک اس کی نمازِ جنازہ نہ پڑھی گئی۔ پھر سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے مؤذن کو حکم دیا تو اس نے اذان دی، پھر اقامت کہی گئی اور ابو برزہ رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور انہیں مغرب کی نماز پڑھائی اور لوگوں میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ تھے، اور سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ انصار میں سے نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، پھر انہوں نے جنازہ پڑھا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6916
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ عبد الرزاق»