کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: ان لوگوں کے قول کا بیان جنہوں نے تین اوقات میں نماز پڑھنے اور دفن کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے
حدیث نمبر: 6913
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي بِنَيْسَابُورَ، وَأَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ الْبَزَّازُ بِبَغْدَادَ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، قَالَا: أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، ثنا مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَعْنِي الْجُهَنِيَّ يَقُولُ: " ثَلَاثَ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَهَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ أَنْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ، وَحِينَ تَضَيَّفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تین اوقات میں رسول اللہ ﷺ ہمیں نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین کرنے سے منع فرمایا کرتے تھے: ”جب سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے، جب وہ دوپہر کے وقت (آسمان کے وسط میں) ٹھہرا ہو یہاں تک کہ وہ ایک طرف جھک جائے اور جب سورج غروب کے قریب ہو یہاں تک کہ وہ مکمل طور پر غروب ہو جائے۔“
حدیث نمبر: 6914
وَرَوَاهُ رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ، وَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ فِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعُقْبَةَ أَيُدْفَنُ بِاللَّيْلِ، قَالَ: نَعَمْ قَدْ دُفِنَ أَبُو بَكْرٍ بِاللَّيْلِ، أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
یزید بن زریع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں روح بن قاسم رحمہ اللہ نے حدیث بیان کی تو انہوں نے اسی حدیث کا تذکرہ کیا۔
حدیث نمبر: 6915
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ: أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، تُوُفِّيَتْ وَطَارِقٌ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَأُتِيَ بِجِنَازَتِهَا بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَوُضِعَتْ بِالْبَقِيعِ، قَالَ وَكَانَ طَارِقٌ يُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ، قَالَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ لِأَهْلِهَا " إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَى جِنَازَتِكُمُ الْآنَ، وَإِمَّا أَنْ تَتْرُكُوهَا حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ ".
حافظ ثناء اللہ
محمد بن ابوحرمُلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا فوت ہو گئیں اور طارق مدینہ کے امیر تھے، ان کے پاس ایک جنازہ فجر کی نماز کے بعد لایا گیا اور اسے بقیع میں رکھا گیا، اور طارق اندھیرے میں نمازِ فجر پڑھتے تھے۔ ابوحرمُلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ اپنے گھر والوں سے کہہ رہے تھے کہ اب اگر تم جنازہ پڑھ لو تو درست ہے کہ تم اسی وقت جنازہ پڑھو یا پھر سورج بلند ہونے تک انتظار کرو۔
حدیث نمبر: 6916
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي ⦗٥٢⦘ عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَجَّاجٌ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، أَنَّ عَلِيًّا، أَخْبَرَهُ: " أَنَّ جِنَازَةً وُضِعَتْ فِي مَقْبَرَةِ أَهْلِ الْبَصْرَةِ حِينَ اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَأَمَرَ أَبُو بَرْزَةَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ أَقَامَهَا فَتَقَدَّمَ أَبُو بَرْزَةَ، فَصَلَّى بِهِمُ الْمَغْرِبَ وَفِي النَّاسِ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، وَأَبُو بَرْزَةَ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّوْا عَلَى الْجِنَازَةِ ".
حافظ ثناء اللہ
زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل بصرہ نے قبرستان میں جنازہ رکھا، جب دھوپ زرد ہو چکی تھی۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو خبر دی تو انہوں نے سورج کے غروب ہونے تک جنازہ نہ پڑھایا۔ پھر انہوں نے مؤذن ابو برذہ کو اذان کا حکم دیا، انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی گئی اور برزہ آگے بڑھے اور انہیں مغرب کی نماز پڑھائی اور لوگوں میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور انصاریوں میں سے سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ تھے اور نبی کریم ﷺ کے دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، پھر انہوں نے جنازہ پڑھا۔