حدیث نمبر: 6918
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: فَقَدَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً سَوْدَاءَ كَانَتْ تَلْتَقِطُ الْخِرَقَ وَالْعِيدَانَ مِنَ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: " أَيْنَ فُلَانَةُ "، قَالُوا: مَاتَتْ، قَالَ: " أَفَلَا آذَنْتُمُونِي "، قَالُوا مَاتَتْ مِنَ اللَّيْلِ وَدُفِنَتْ فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَبْرِهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا وَقَالَ: " إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَلَا تَدَعُوا أَنْ تُؤْذِنُونِي ".
حافظ ثناء اللہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک کالی عورت کو گم پایا جو مسجد سے تنکے وغیرہ اٹھاتی اور صفائی کرتی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”فلاں عورت کہاں ہے؟“ انہوں نے کہا: وہ فوت ہو چکی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا؟“ انہوں نے کہا: وہ رات کو فوت ہوئی تھی اور دفن کر دی گئی۔ ہم نے آپ ﷺ کو بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا تو رسول اللہ ﷺ اس کی قبر پر گئے اور نمازِ جنازہ پڑھی اور فرمایا: ”جب مسلمانوں میں سے کوئی فوت ہو جائے تو مجھے ضرور اطلاع کیا کرو۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6918
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ ابن خزيمه»