کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: قبر پر اس کی اپنی مٹی سے زیادہ مٹی نہ ڈالی جائے تاکہ وہ بہت اونچی نہ ہو جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ، أَوْ يُزَادَ عَلَيْهِ، أَوْ يُجَصَّصَ ". وَرَوَاهُ أَبَانُ بْنُ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنِ الْحَسَنِ وَأَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " وَلَا يُزَادُ عَلَى حُفَيْرَتِهِ التُّرَابُ " وَفِي الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ كِفَايَةٌ، أَبَانُ ضَعِيفٌ، وَرُوِيَ كَمَا.
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن موسیٰ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا کہ ”قبر پر عمارت تعمیر کی جائے یا اس پر زیادہ مٹی ڈالی جائے یا اسے پختہ کیا جائے۔“
نیز جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی قبر پر زیادہ مٹی نہ ڈالی جائے۔“
نیز جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کی قبر پر زیادہ مٹی نہ ڈالی جائے۔“
أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، أنبأ أَبُو كَامِلٍ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ " " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْحِدَ لَهُ لَحْدًا، وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنَ نَصْبًا "، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " وَرُفِعَ قَبْرُهُ مِنَ الْأَرْضِ نَحْوًا مِنْ شِبْرٍ ". كَذَا وَجَدْتُهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے لیے لحد بنائی گئی اور اس پر کچی اینٹیں نصب کی گئیں۔۔۔ آگے پوری حدیث بیان کی اور کہا کہ آپ ﷺ کی قبر مبارک قریباً ایک بالشت زمین سے اونچی کی گئی جیسے میں نے دیکھا۔
وَقَدْ أَنْبَأَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِجَازَةً، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُشَّ عَلَى قَبْرِهِ الْمَاءُ، وَوُضِعَ عَلَيْهِ حَصْبَاءُ مِنْ حَصْبَاءِ الْعَرْصَةِ، وَرُفِعَ قَبْرُهُ قَدْرَ شِبْرٍ ". وَهَذَا مُرْسَلٌ، وَرَوَاهُ الْوَاقِدِيُّ بِإِسْنَادٍ لَهُ عَنْ جَابِرٍ، وَذَلِكَ يُرَدُّ.
حافظ ثناء اللہ
جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی قبر پر پانی چھڑکا گیا اور اس پر چمکنے والے پتھر ڈالے گئے اور قبر کو ایک بالشت کے برابر بلند کیا گیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ قَالَ: خَرَجْنَا غَزَاةً فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ إِلَى هَذِهِ الدُّرُوبِ وَعَلَيْنَا فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ " فَتُوُفِّيَ ابْنُ عَمٍّ لِي يُقَالُ لَهُ نَافِعُ بْنُ عَبْدٍ " قَالَ: فَقَامَ فَضَالَةُ فِي حُفْرَتِهِ، فَلَمَّا دَفَنَّاهُ قَالَ: " خَفِّفُوا عَنْهُ التُّرَابَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِتَسْوِيَةِ الْقُبُورِ ".
حافظ ثناء اللہ
ثمامہ بن شفی کہتے ہیں: ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک غزوے پر نکلے، ان صحراؤں کی طرف اور فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ ہم پر عامل تھے۔ میرے چچا کا بیٹا فوت ہو گیا جسے نافع بن عبد کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: فضالہ رضی اللہ عنہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے، جب اسے ہم نے دفن کر لیا تو کہا: اس سے مٹی کم کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ ”ہمیں قبریں برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔“