کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: پھاوڑوں اور ہاتھوں کے ذریعے قبر میں مٹی ڈالنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ امْرَأَةُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَأَدْخَلَتْنِي عَلَيْهَا حَتَّى سَمِعْتُهُ مِنْهَا، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: " وَاللهِ مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِي فِي جَوْفِ لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کی قسم! ہمیں آپ ﷺ کے دفن کا کوئی پتا نہ چلا یہاں تک کہ ہم نے بدھ کی رات کے وسط میں پھاؤڑوں کی آواز سنی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَسْنَدَتْهُ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا إِلَى صَدْرِهَا، فَجَعَلَ يَتَغَشَّاهُ الْكَرْبُ، فَقَالَتْ: وَاكَرْبَ أَبَتَاهُ، فَقَالَ: " إِنَّهُ لَيْسَ عَلَى أَبِيكِ كَرْبٌ بَعْدَ الْيَوْمُ "، فَلَمَّا قُبِضَ ⦗٥٧٥⦘ وَدُفِنَ قَالَتْ لِي فَاطِمَةُ: يَا أَنَسُ، أَطَابَتْ أَنْفُسَكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ". قَالَ حَمَّادٌ: إِنَّمَا حُفِظَ " أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ اس مرض میں بیمار ہوئے جس میں آپ ﷺ فوت ہو گئے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے سینے سے آپ ﷺ کی ٹیک لگائی تو آپ ﷺ پر بے ہوشیاں طاری ہونے لگیں اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہنا شروع کر دیا: ”ہائے! میرے ابا جان کو کتنی تکلیف ہے!“ تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”آج کے بعد آپ کے ابا جان کو کوئی تکلیف نہیں ہوگی۔“ سو جب آپ ﷺ فوت ہو گئے اور دفن کر دیے گئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے انس! کیا تمہارے دلوں نے پسند کر لیا کہ تم رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالو؟“
وَفِيمَا ذَكَرَ أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مَنِيعٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ، " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَثَا فِي قَبْرٍ ثَلَاثًا ". أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ہشام بن سعد، زیاد سے اور وہ ابو المنذر رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ ﷺ نے قبر میں تین چلو مٹی کے پھینکے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ يَعْنِي الْعُمَرِيَّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: " رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ دَفَنَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، وَحَثَا بِيَدَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ مِنَ التُّرَابِ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْقَبْرِ ". إِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ، إِلَّا أَنَّ لَهُ شَاهِدًا مِنْ جِهَةِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَيُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، جب عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا۔ آپ ﷺ نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور چار تکبیرات کہیں اور اپنے دونوں ہاتھوں سے تین مرتبہ مٹی ڈالی اس حال میں کہ آپ ﷺ قبر پر کھڑے تھے۔
اس کی سند ضعیف ہے، البتہ جعفر بن محمد کی اپنے والد سے، نبی کریم ﷺ سے مرسل روایت اس کی شاہد ہے، اور یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی روایت کی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
اس کی سند ضعیف ہے، البتہ جعفر بن محمد کی اپنے والد سے، نبی کریم ﷺ سے مرسل روایت اس کی شاہد ہے، اور یہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً بھی روایت کی جاتی ہے۔ واللہ اعلم۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: " تُوُفِّيَ رَجُلٌ فَلَمْ تَصُبْ لَهُ حَسَنَةٌ إِلَّا ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ حَثَاهَا فِي قَبْرٍ فَغُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ ". وَهَذَا مَوْقُوفٌ حَسَنٌ فِي هَذَا الْبَابِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”ایک ایسا آدمی فوت ہوا جس نے کوئی نیکی نہیں کی تھی سوائے مٹی کے تین چلوؤں کے جو اس نے قبر پر ڈالے تھے، سو اس کے سارے (تمام) گناہ معاف کر دیے گئے۔“
اس باب میں یہ موقوف روایت حسن ہے۔
اس باب میں یہ موقوف روایت حسن ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: " صَلَّى عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مَكُفِّفٍ فَكَبَّرَ أَرْبَعًا، قَالَ: ثُمَّ حَثَا فِي قَبْرِهِ التُّرَابَ ".
حافظ ثناء اللہ
عمیر بن سعید کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے یزید بن مکفف کی نماز جنازہ پڑھی اور اس میں چار تکبیرات کہیں اور پھر اس کی قبر پر مٹی پھینکی۔
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ، " أَنَّهُ رَأَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي قَبْرِ ابْنِ مُكَفِّفٍ حَثَا ثِنْتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ".
حافظ ثناء اللہ
عمیر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ابن مکفف کی قبر میں دو یا تین چلو (ہاتھ بھر) مٹی کے ڈالے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ لَمَّا دَفَنَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَثَا عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمَّ قَالَ: " هَكَذَا يُدْفَنُ الْعِلْمُ ". فَحَدَّثْتُ بِهِ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: " وَابْنُ عَبَّاسٍ وَاللهِ لَقَدْ دُفِنَ بِهِ عِلْمٌ كَثِيرٌ ".
حافظ ثناء اللہ
علی بن زید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جب سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو دفن کیا اور ان کی قبر پر مٹی ڈالی، پھر انہوں نے کہا: یوں علم دفن کیا جاتا ہے، تو میں نے یہ بات علی بن حسین رحمہ اللہ کو بیان کی تو انہوں نے کہا: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما تو اللہ کی قسم! کمال ہیں، اللہ کی قسم! ان کے ساتھ بہت سا علم دفن کر دیا گیا۔