السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: لا يزاد في القبر على أكثر من ترابه لئلا يرتفع جدا باب: قبر پر اس کی اپنی مٹی سے زیادہ مٹی نہ ڈالی جائے تاکہ وہ بہت اونچی نہ ہو جائے
حدیث نمبر: 6738
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ قَالُوا: أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شُفَيٍّ قَالَ: خَرَجْنَا غَزَاةً فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ إِلَى هَذِهِ الدُّرُوبِ وَعَلَيْنَا فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ " فَتُوُفِّيَ ابْنُ عَمٍّ لِي يُقَالُ لَهُ نَافِعُ بْنُ عَبْدٍ " قَالَ: فَقَامَ فَضَالَةُ فِي حُفْرَتِهِ، فَلَمَّا دَفَنَّاهُ قَالَ: " خَفِّفُوا عَنْهُ التُّرَابَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِتَسْوِيَةِ الْقُبُورِ ".حافظ ثناء اللہ
ثمامہ بن شفی کہتے ہیں: ہم معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک غزوے پر نکلے، ان صحراؤں کی طرف اور فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ ہم پر عامل تھے۔ میرے چچا کا بیٹا فوت ہو گیا جسے نافع بن عبد کہا جاتا تھا، وہ کہتے ہیں: فضالہ رضی اللہ عنہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئے، جب اسے ہم نے دفن کر لیا تو کہا: اس سے مٹی کم کرو کیونکہ رسول اللہ ﷺ ”ہمیں قبریں برابر کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔“