کتب حدیث › السنن الكبرى للبيهقي › ابواب › باب: میت کو حنوط (خوشبو) لگانے کا بیان
❮
❯
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَعَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، " أَنَّ رَجُلًا كَانَ وَاقِفًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ فَوَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، قَالَ أَيُّوبُ: فَوَقَصَتْهُ، وَقَالَ عَمْرٌو: فَأَقْعَصَتْهُ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْنِ، وَلَا تُحَنِّطُوهُ، وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ يَبْعَثُهُ يُلَبِّي ". وَقَالَ عَمْرٌو " مُلَبِّيًا " قَالَ إِسْمَاعِيلُ: هَكَذَا قَالَ مُسَدَّدٌ، وَخَالَفَهُ عَارِمٌ وَسُلَيْمَانُ اتَّفَقَا عَلَى أَنَّ عَمْرًا قَالَ " يُلَبِّي " وَأَنَّ أَيُّوبَ قَالَ: " مُلَبِّيًا ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُسَدَّدٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، كَمَا مَضَى. وَفِيهِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ غَيْرَ الْمُحْرِمِ يُحَنَّطُ كَمَا يُخَمَّرُ، وَأَنَّ النَّهْيَ وَقَعَ لِأَجْلِ الْإِحْرَامِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی عرفات میں پیارے پیغمبر ﷺ کے ساتھ اپنی سواری پر تھا، اس کی سواری نے اسے گرا دیا تو وہ فوت ہو گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیری سے غسل دو اور دو کپڑوں میں کفن دو اور اسے خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ہی اس کے سر کو ڈھانپو، بیشک اللہ تعالیٰ اسے تلبیہ کہتے ہوئے اٹھائیں گے۔“ اس سے یہ ثابت ہوا کہ جو محرم نہ ہو اسے خوشبو لگائی جائے گی اور سر بھی ڈھانپا جائے گا کیونکہ اس سے منع احرام کی وجہ سے کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6698
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ معني تخريجه 6637»
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيٍّ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ آدَمَ لَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَالَ لِبَنِيهِ: يَا بَنِيَّ، إِنِّي مَرِيضٌ، وَإِنِّي أَشْتَهِي مَا يَشْتَهِي الْمَرِيضُ، وَإِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَابْغُوا لِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ، فَلَقِيَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، فَقَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ، أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نَبْغِي أَبَانَا مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: ارْجِعُوا، فَقَدْ أُمِرَ بِقَبْضِ رَوْحِ أَبِيكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، قَالَ: فَقَبَضُوا رُوحَهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، وَصَلُّوا عَلَيْهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ، هَذِهِ سُنَّتُكُمْ فِي مَوْتَاكُمْ ". يَرْفَعُهُ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ وَوَقَفَهُ هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ بَعْضُهُمْ: ثُمَّ حَفَرُوا لَهُ ثُمَّ دَفَنُوهُ، وَزَادَ: وَكَذَلِكُمْ فَافْعَلُوا..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم بیمار ہوئے جس بیماری میں وہ فوت ہوئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں بیمار ہوں اور میں بھی وہی کچھ چاہتا ہوں جو مریض چاہتا ہے اور میں جنت کا پھل چاہتا ہوں۔ وہ میرے لیے تلاش کرو۔ وہ نکلے اور زمین میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انہیں اچانک فرشتے ملے اور کہنے لگے: اے آدم کے بیٹو! تم کیا ارادہ کرتے ہو؟ وہ کہنے لگے: ہم اپنے بابا جان کے لیے جنت کا پھل ڈھونڈ رہے ہیں۔ فرشتوں نے کہا: واپس پلٹ جاؤ کیونکہ تمہارے باپ کی روح قبض کرنے اور جنت کی طرف لے جانے کا حکم ملا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو فرشتوں نے آدم کی روح قبض کر لی اور وہ سب دیکھ رہے تھے، انہوں نے اسے کفن دیا، خوشبو لگائی اور وہ دیکھ رہے تھے اور انہوں نے آدم کی نماز جنازہ پڑھی اور وہ دیکھ رہے تھے، پھر انہوں نے کہا: اے آدم کے بیٹو! تمہارے لیے تمہارے مردوں میں یہی سنت و طریقہ ہے۔“
خارجہ بن مصعب نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور ہشیم بن بشیر وغیرہ نے یونس بن عبید سے اسے موقوف بیان کیا ہے، اور بعض راویوں نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ پھر انہوں نے ان کے لیے قبر کھودی، پھر انہیں دفن کر دیا، اور یہ بھی اضافہ کیا: اور تم بھی اسی طرح کیا کرو۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6699
درجۂ حدیث محدثین: باطل
تخریج حدیث «باطل۔ أخرجه الحاكم»
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: حَدَّثَنِي عُتَيٌّ السَّعْدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أُبِيَّ بْنَ كَعْبٍ، يُحَدِّثُ قَالَ: لَمَّا احْتُضِرَ آدَمُ، فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا بِمَعْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا آدم (علیہ السلام) کی موت کا وقت آیا۔۔۔ آگے اسی مفہوم کی پوری حدیث موقوفاً بیان کی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6700
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ أخرجه الحاكم»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ ⦗٥٦٨⦘ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ فَأَرَادُوا أَنْ يُغَسِّلُوهَا " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: " ثُمَّ احْشِي سُفْلَتَهَا كُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ، ثُمَّ أَمِّسِي كُرْسُفَهَا مِنْ طِيبِهَا، ثُمَّ خُذِي سَبَنِيَّةً طَوِيلَةً مَغْسُولَةً فَارْبِطِيهَا عَلَى عَجُزِهَا كَمَا يُرْبَطُ النِّطَاقُ، ثُمَّ اعْقِدِيهَا بَيْنَ فَخِذَيْهَا، وَضُمِّي فَخِذَيْهَا، ثُمَّ أَلْقِي طَرَفَ السَّبَنِيَّةِ مِنْ عِنْدِ عَجُزِهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُكْبَتَيْهَا، فَهَذَا بَيَانُ سُفْلَتِهَا، ثُمَّ طَيِّبِيهَا وَكَفِّنِيهَا ".
حافظ ثناء اللہ
ام سلیم انس بن مالک رضی اللہ عنہما کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عورت فوت ہوگئی اور اسے غسل دینے کا ارادہ کیا۔۔۔ (لمبی حدیث بیان کی) اور کہا: پھر اس کے نیچے روئی کا حاشیہ بنا، جس قدر تو بنا سکتی ہے۔ پھر اس روئی کو خوشبو میں بھگو دے۔ پھر صاف لمبا تہہ بند لو اور اس کی کمر کے ساتھ باندھ دو جیسے کمر بند باندھا جاتا ہے۔ پھر اس کی رانوں کے درمیان اس سے گرہ لگاؤ اور اس کے کولہوں کو دباؤ۔ پھر اس کے تہہ بند کی ایک طرف اس کی کمر سے گھٹنوں تک ڈال دو۔ یہ ہے «سُفْلَة» سے مراد۔ پھر اسے خوشبو لگاؤ اور کفن پہناؤ۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6701
درجۂ حدیث محدثین: منكر
تخریج حدیث «منكر۔ الطبراني»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَجْمَرْتُمُ الْمَيِّتَ فَأَوْتِرُوا " وَرُوِي " أَجْمِرُوا كَفَنَ الْمَيِّتِ ثَلَاثًا "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میت کو (خوشبو کی) دھونی دو تو طاق عدد میں دو۔“ اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے: ”میت کے کفن کو تین مرتبہ دھونی دو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6702
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه احمد»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، وَذَاكَرْتُهُ يَعْنِي هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ يَحْيَى: لَمْ يَرْفَعْهُ إِلَّا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، قَالَ يَحْيَى: وَلَا أَظُنُّ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا غَلَطًا.
حافظ ثناء اللہ
عباس بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے اس حدیث کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا: اسے یحییٰ بن آدم کے سوا کسی نے مرفوع بیان نہیں کیا، اور وہ اس حدیث کو غلط تصور کرتے ہیں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6703
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهَا قَالَتْ لِأَهْلِهَا: " أَجْمِرُوا ثِيَابِي إِذَا مِتُّ، ثُمَّ حَنِّطُونِي، وَلَا تَذَرُوا عَلَى كَفَنِي حَنُوطًا، وَلَا تَتَّبِعُونِي بِنَارٍ ".
حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے اپنے گھر والوں سے کہا: جب میں فوت ہو جاؤں تو میرے کپڑوں کو (خوشبو کی) دھونی دینا، پھر مجھے خوشبو لگانا اور میرے کفن پر خوشبو نہ چھڑکنا اور نہ ہی میرے جنازے کے ساتھ آگ لے کر جانا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الجنائز / حدیث: 6704
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ أخرجه المالك»