السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الحنوط للميت باب: میت کو حنوط (خوشبو) لگانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَوْحٍ الْمَدَائِنِيُّ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيٍّ، عَنْ أُبِيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ آدَمَ لَمَّا مَرِضَ مَرَضَهُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ قَالَ لِبَنِيهِ: يَا بَنِيَّ، إِنِّي مَرِيضٌ، وَإِنِّي أَشْتَهِي مَا يَشْتَهِي الْمَرِيضُ، وَإِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارٍ مِنَ الْجَنَّةِ، فَابْغُوا لِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَخَرَجُوا يَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ، فَلَقِيَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ عِيَانًا، فَقَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ، أَيْنَ تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نَبْغِي أَبَانَا مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: ارْجِعُوا، فَقَدْ أُمِرَ بِقَبْضِ رَوْحِ أَبِيكُمْ إِلَى الْجَنَّةِ، قَالَ: فَقَبَضُوا رُوحَهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، وَصَلُّوا عَلَيْهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ، هَذِهِ سُنَّتُكُمْ فِي مَوْتَاكُمْ ". يَرْفَعُهُ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ وَوَقَفَهُ هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، وَغَيْرُهُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَزَادَ فِيهِ بَعْضُهُمْ: ثُمَّ حَفَرُوا لَهُ ثُمَّ دَفَنُوهُ، وَزَادَ: وَكَذَلِكُمْ فَافْعَلُوا..سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب آدم بیمار ہوئے جس بیماری میں وہ فوت ہوئے تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے کہا: اے میرے بیٹو! میں بیمار ہوں اور میں بھی وہی کچھ چاہتا ہوں جو مریض چاہتا ہے اور میں جنت کا پھل چاہتا ہوں۔ وہ میرے لیے تلاش کرو۔ وہ نکلے اور زمین میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ انہیں اچانک فرشتے ملے اور کہنے لگے: اے آدم کے بیٹو! تم کیا ارادہ کرتے ہو؟ وہ کہنے لگے: ہم اپنے بابا جان کے لیے جنت کا پھل ڈھونڈ رہے ہیں۔ فرشتوں نے کہا: واپس پلٹ جاؤ کیونکہ تمہارے باپ کی روح قبض کرنے اور جنت کی طرف لے جانے کا حکم ملا ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو فرشتوں نے آدم کی روح قبض کر لی اور وہ سب دیکھ رہے تھے، انہوں نے اسے کفن دیا، خوشبو لگائی اور وہ دیکھ رہے تھے اور انہوں نے آدم کی نماز جنازہ پڑھی اور وہ دیکھ رہے تھے، پھر انہوں نے کہا: اے آدم کے بیٹو! تمہارے لیے تمہارے مردوں میں یہی سنت و طریقہ ہے۔“
خارجہ بن مصعب نے اسے مرفوع بیان کیا ہے اور ہشیم بن بشیر وغیرہ نے یونس بن عبید سے اسے موقوف بیان کیا ہے، اور بعض راویوں نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ پھر انہوں نے ان کے لیے قبر کھودی، پھر انہیں دفن کر دیا، اور یہ بھی اضافہ کیا: اور تم بھی اسی طرح کیا کرو۔