السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الحنوط للميت باب: میت کو حنوط (خوشبو) لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 6704
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهَا قَالَتْ لِأَهْلِهَا: " أَجْمِرُوا ثِيَابِي إِذَا مِتُّ، ثُمَّ حَنِّطُونِي، وَلَا تَذَرُوا عَلَى كَفَنِي حَنُوطًا، وَلَا تَتَّبِعُونِي بِنَارٍ ".حافظ ثناء اللہ
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے اپنے گھر والوں سے کہا: میرے کپڑے کی تین تہیں لگانا اور جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے خوشبو لگانا اور میرے کفن پر خوشبو نہ رہنے دینا اور نہ ہی میرے جنازے کے ساتھ آگ لے کر جانا۔