السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الجنائز— کتاب الجنائز
باب: الحنوط للميت باب: میت کو حنوط (خوشبو) لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 6701
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ ⦗٥٦٨⦘ الْقَاسِمِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَشِيرٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا تُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ فَأَرَادُوا أَنْ يُغَسِّلُوهَا " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، قَالَ: " ثُمَّ احْشِي سُفْلَتَهَا كُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ، ثُمَّ أَمِّسِي كُرْسُفَهَا مِنْ طِيبِهَا، ثُمَّ خُذِي سَبَنِيَّةً طَوِيلَةً مَغْسُولَةً فَارْبِطِيهَا عَلَى عَجُزِهَا كَمَا يُرْبَطُ النِّطَاقُ، ثُمَّ اعْقِدِيهَا بَيْنَ فَخِذَيْهَا، وَضُمِّي فَخِذَيْهَا، ثُمَّ أَلْقِي طَرَفَ السَّبَنِيَّةِ مِنْ عِنْدِ عَجُزِهَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُكْبَتَيْهَا، فَهَذَا بَيَانُ سُفْلَتِهَا، ثُمَّ طَيِّبِيهَا وَكَفِّنِيهَا ".حافظ ثناء اللہ
ام سلیم انس بن مالک رضی اللہ عنہما کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب عورت فوت ہوگئی اور اسے غسل دینے کا ارادہ کیا۔۔۔ (لمبی حدیث بیان کی) اور کہا: پھر اس کے نیچے روئی کا حاشیہ بنا، جس قدر تو بنا سکتی ہے۔ پھر اس روئی کو خوشبو میں بھگو دے۔ پھر صاف لمبا تہہ بند لو اور اس کی کمر کے ساتھ باندھ دو جیسے کمر بند باندھا جاتا ہے۔ پھر اس کی رانوں کے درمیان اس سے گرہ لگاؤ اور اس کے کولہوں کو دباؤ۔ پھر اس کے تہہ بند کی ایک طرف اس کی کمر سے گھٹنوں تک ڈال دو۔ یہ ہے «سُفْلَة» سے مراد۔ پھر اسے خوشبو لگاؤ اور کفن پہناؤ۔“