کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: مقتدی کا عید کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد اپنے گھر، مسجد، راستے، عید گاہ اور جہاں ممکن ہو نفل پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ " أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَمِنْ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تَأْمُرُنِي أَنْ لَا أُصَلِّيَ فِيهَا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ؛ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى يَنْتَصِفَ النَّهَارِ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ؛ فَإِنَّهَا حِينَئِذٍ تُسَعَّرُ جَهَنَّمُ، وَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا ⦗٤٢٥⦘ زَالَتِ الشَّمْسُ فَالصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ، فَإِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ، ثُمَّ الصَّلَاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ ".
حافظ ثناء اللہ
سعید بن ابی سعید مقبری سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! آپ دن اور رات کی کونسی گھڑی میں مجھے نماز پڑھنے سے روکیں گے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تو صبح کی نماز پڑھ لے تو سورج کے بلند ہونے تک نماز سے رک جا؛ کیونکہ سورج شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے۔ پھر نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، یہ نصف نہار تک مقبول ہے، جب آدھا دن ہو جائے تو سورج کے ڈھلنے تک نماز سے رک جا؛ کیونکہ اس وقت جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی لَو سے ہے۔ پھر جب سورج ڈھل جائے تو یہ ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ مقبول ہے یہاں تک کہ تو عصر کی نماز پڑھ لے، اور عصر کی نماز کے بعد سورج کے غروب ہونے تک نماز سے رک جا، پھر ایسی نماز ہے جس میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور مقبول بھی ہے، یہاں تک کہ تو صبح کی نماز پڑھ لے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6229
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ: " رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَالْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ، وَجَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ يُصَلُّونَ قَبْلَ الْإِمَامِ فِي الْعِيدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ، حسن بن ابی الحسن رحمہ اللہ، جابر بن زید رحمہ اللہ اور سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے۔ دوسری روایت میں سلیمان تیمی رحمہ اللہ، عبداللہ داناج رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6230
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ ابو يعليٰ 4193»
قَالَ: وَحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الدَّانَاجِ، قَالَ: " رَأَيْتُ أَبَا بُرْدَةَ يُصَلِّي يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الْإِمَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ بن مالک کو دیکھا کہ وہ عید کے دن امام کے نکلنے سے پہلے اور آتے نماز پڑھتے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6231
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: " رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَجِيءُ يَوْمَ الْعِيدِ فَيُصَلِّي قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
عباس بن سہل فرماتے ہیں کہ انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو عید الفطر اور عید الاضحی کے دن مسجد میں دو دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر اس کی طرف نہیں لوٹتے تھے (دوبارہ نہیں پڑھتے تھے)۔
عیسیٰ بن سہل اپنے دادا سے مرفوعاً فرماتے ہیں: ”وہ اپنے بیٹوں کو مسجد میں بٹھاتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا، پھر وہ دو رکعت ادا کرتے، پھر عید گاہ کی طرف چلے جاتے۔“
ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے عیسیٰ بن سہل سے سوال کیا کہ وہ دوبارہ بھی اسے پڑھا کرتے تھے؟ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6232
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: " كُنْتُ أَقُودُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ إِلَى الْمُصَلَّى لِيُسَبِّحَ فِي الْمَسْجِدِ وَلَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
(الف) ابن ابی ذئب، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام شعبہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو عید گاہ کی طرف لے کر آتا، وہ مسجد میں نفل ادا کرتے، پھر دوبارہ اس کی طرف واپس نہ آتے۔ (ب) ازرق بن قیس ان سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں سنا کہ وہ عید کے دن امام کے نکلنے اور نماز سے پہلے نماز پڑھا کرتا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بندے پر اس کی نیکی کو واپس نہیں لوٹاتا، جو نیکی وہ اس کے لیے کرتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6233
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، ثنا أَبِي، ثنا الْحُسَيْنُ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: " كَانَ بُرَيْدَةُ يُصَلِّي يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ الْإِمَامِ ".
حافظ ثناء اللہ
حسین رحمہ اللہ، ابن بریدہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بریدہ رضی اللہ عنہ عید الفطر اور عید الاضحی کے دن نماز پڑھا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6234
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ الطُّوسِيَّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَوْنٌ الْحَارِثِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: " رَأَيْتُ أَبِي تَوَضَّأَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، ثُمَّ صَلَّى فِي أَهْلِهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَخَرَجْنَا إِلَى الْمُصَلَّى، فَدَنَا قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ حَيْثُ يَسْمَعُ، فَلَمَّا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا بَعْدَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ، ثُمَّ صَلَّى فِي أَهْلِهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَمَّا رَجَعَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کو عید کے دن وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے اپنے گھر میں چار رکعات نماز پڑھی، پھر انہوں نے میرے ہاتھ کو پکڑا، ہم عید گاہ کی طرف چلے گئے اور امام کے قریب ہو کر بیٹھے جہاں وہ خطبہ سن رہے تھے، جب نماز مکمل کی گئی تو اس سے پہلے اور بعد میں انہوں نے نماز ادا نہیں کی، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس لوٹے اور گھر میں چار رکعت نماز ادا کی۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے اور عروہ بن زبیر رحمہ اللہ عید الفطر کے دن نماز سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ عید کے بعد آٹھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔
نوٹ: ایک جماعت عید سے پہلے اور بعد میں نماز کو ناپسند کرتی ہے اور بعض لوگ اس کے بعد نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے اور بعض عید گاہ میں نماز کو ناپسند کرتے ہیں، لیکن مسجد اور گھر میں عید کے دن نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے۔
عید کا دن تمام دنوں کی طرح ہے اور جب سورج بلند ہو جائے تو نماز مباح ہو جاتی ہے جہاں بھی ادا کی جائے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب صلاة العيدين / حدیث: 6235
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»