السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: المأموم يتنقل قبل صلاة العيد وبعدها في بيته، والمسجد، وطريقه، والمصلى، وحيث أمكنه باب: مقتدی کا عید کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد اپنے گھر، مسجد، راستے، عید گاہ اور جہاں ممکن ہو نفل پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 6230
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ: " رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَالْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ، وَجَابِرَ بْنَ زَيْدٍ، وَسَعِيدَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ يُصَلُّونَ قَبْلَ الْإِمَامِ فِي الْعِيدِ ".حافظ ثناء اللہ
سلیمان تیمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ، حسن بن ابی الحسن رحمہ اللہ، جابر بن زید رحمہ اللہ اور سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے۔ دوسری روایت میں سلیمان تیمی رحمہ اللہ، عبداللہ داناج رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے ابوبردہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے۔