السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: المأموم يتنقل قبل صلاة العيد وبعدها في بيته، والمسجد، وطريقه، والمصلى، وحيث أمكنه باب: مقتدی کا عید کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد اپنے گھر، مسجد، راستے، عید گاہ اور جہاں ممکن ہو نفل پڑھنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ قَالَ: " رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَجِيءُ يَوْمَ الْعِيدِ فَيُصَلِّي قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ ".ایوب فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ عید کے دن آتے اور امام کے نکلنے سے پہلے نماز پڑھتے۔
عباس بن سہل فرماتے ہیں کہ انہوں نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو عید الفطر اور عید الاضحی کے دن مسجد میں دو دو رکعت نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے، پھر اس کی طرف نہیں لوٹتے تھے (دوبارہ نہیں پڑھتے تھے)۔
عیسیٰ بن سہل اپنے دادا سے مرفوعاً فرماتے ہیں: ”وہ اپنے بیٹوں کو مسجد میں بٹھاتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جاتا، پھر وہ دو رکعت ادا کرتے، پھر عید گاہ کی طرف چلے جاتے۔“
ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ میں نے عیسیٰ بن سہل سے سوال کیا کہ وہ دوبارہ بھی اسے پڑھا کرتے تھے؟ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا۔