السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة العيدين— کتاب العیدین
باب: المأموم يتنقل قبل صلاة العيد وبعدها في بيته، والمسجد، وطريقه، والمصلى، وحيث أمكنه باب: مقتدی کا عید کی نماز سے پہلے اور اس کے بعد اپنے گھر، مسجد، راستے، عید گاہ اور جہاں ممکن ہو نفل پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيٌّ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ الطُّوسِيَّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَوْنٌ الْحَارِثِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ: " رَأَيْتُ أَبِي تَوَضَّأَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، ثُمَّ صَلَّى فِي أَهْلِهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَخَرَجْنَا إِلَى الْمُصَلَّى، فَدَنَا قَرِيبًا مِنَ الْإِمَامِ حَيْثُ يَسْمَعُ، فَلَمَّا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا بَعْدَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ أَهْلِهِ حَتَّى يَرْجِعَ، ثُمَّ صَلَّى فِي أَهْلِهِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَمَّا رَجَعَ ".سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ) کو عید کے دن وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر انہوں نے اپنے گھر میں چار رکعات نماز پڑھی، پھر انہوں نے میرے ہاتھ کو پکڑا، ہم عید گاہ کی طرف چلے گئے اور امام کے قریب ہو کر بیٹھے جہاں وہ خطبہ سن رہے تھے، جب نماز مکمل کی گئی تو اس سے پہلے اور بعد میں انہوں نے نماز ادا نہیں کی، یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس لوٹے اور گھر میں چار رکعت نماز ادا کی۔ سعید بن مسیب رحمہ اللہ عید کے دن امام سے پہلے نماز پڑھا کرتے تھے اور عروہ بن زبیر رحمہ اللہ عید الفطر کے دن نماز سے پہلے اور بعد میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ قاسم بن محمد رحمہ اللہ عید گاہ کی طرف جانے سے پہلے چار رکعات پڑھا کرتے تھے اور محمد بن سیرین رحمہ اللہ عید کے بعد آٹھ رکعات پڑھا کرتے تھے۔
نوٹ: ایک جماعت عید سے پہلے اور بعد میں نماز کو ناپسند کرتی ہے اور بعض لوگ اس کے بعد نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے اور بعض عید گاہ میں نماز کو ناپسند کرتے ہیں، لیکن مسجد اور گھر میں عید کے دن نماز پڑھنے کو ناپسند نہیں کرتے۔
عید کا دن تمام دنوں کی طرح ہے اور جب سورج بلند ہو جائے تو نماز مباح ہو جاتی ہے جہاں بھی ادا کی جائے۔