کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: سونے کے بٹنوں والے قباء (چوغے) کے بارے میں جو مروی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: " أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةَ دِيبَاجٍ أَزْرَارُهَا ذَهَبٌ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ ". فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَسَى أَنْ نُصِيبَ مِنْهَا، فَقَالَ لِي: ادْخُلْ فَادْعُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ قُبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: " هَا يَا مَخْرَمَةُ هَذَا خَبَأْنَاهُ لَكَ ". أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کو ریشم کی قبا سونے کے بٹن والی تحفہ میں دی گئی۔ آپ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دی تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا: چلو نبی ﷺ کی طرف شاید ہم بھی کچھ حاصل کر لیں۔ مسور رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے کہا: جاؤ اور نبی ﷺ کو دعوت دو۔ نبی ﷺ ہماری طرف آئے تو آپ ﷺ کے اوپر قبا تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے مخرمہ! یہ میں نے آپ کے لیے چھپا کے رکھی تھی۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَسَمَ أَقْبِيَةً مِنْ دِيبَاجٍ مَزْرُورَةً بِالذَّهَبِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مَخْرَمَةَ بْنَ نَوْفَلٍ أَبَا الْمِسْوَرِ، فَبَعَثَ ابْنَهُ الْمِسْوَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ فَقَامَ بِالْبَابِ، وَقَالَ: ادْعُهُ لِي، فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ بِقَبَاءٍ مِنْهَا، فَاسْتَقْبَلَهُ وَقَالَ: " خَبَّأْتُ لَكَ هَذَا يَا أَبَا الْمِسْوَرِ، خَبَّأْتُ لَكَ هَذَا يَا أَبَا الْمِسْوَرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ حَمَّادٍ، هَكَذَا مُرْسَلًا. وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ. وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ مَوْصُولًا، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الدِّيبَاجِ وَالْأَزْرَارِ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَاهُ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الدِّيبَاجِ وَالْأَزْرَارِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ریشم کی قبائیں تقسیم کیں، جن کو سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کو بھی خبر ملی، جو مسور رضی اللہ عنہ کے والد ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو نبی ﷺ کی طرف روانہ کیا۔ وہ آئے اور دروازے پر کھڑے ہو گئے اور عرض کیا: نبی ﷺ کو بلاؤ، تو نبی ﷺ نے یہ آواز سن لی۔ آپ ﷺ ایک قبا لے کر آئے اور فرمایا: ”اے ابو مسور! میں نے تیرے لیے چھپا کر رکھی ہوئی تھی“، دو مرتبہ فرمایا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَو، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرِ دَوْمَةَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِجُبَّةٍ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٍ بِالذَّهَبِ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّاسَ يَمْسَحُونَهَا ⦗٣٨٨⦘ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ الْجُبَّةِ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، قَالَ: " فَوَاللهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ ".
حافظ ثناء اللہ
واقد بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ فرمانے لگے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر اکیدر دومۃ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے آپ ﷺ کی طرف ایک جبہ بھیجا جو سونے سے بنایا گیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو پہنا تو لوگوں نے اس کو ہاتھ کے ساتھ چھونا شروع کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس جبہ سے تعجب کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے کبھی اس سے عمدہ کپڑا نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! سعد کے رومال جنت میں اس سے بھی عمدہ ہوں گے جس کو تم دیکھ رہے ہو۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي قَالَا: ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُكَيْدِرَ دَوْمَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةً، قَالَ سَعِيدٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: سُنْدُسٍ، قَالَ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، قَالَ: فَلَبِسَهَا، فَعَجِبَ النَّاسُ مِنْهَا، فَقَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ قَتَادَةَ دُونَ اللَّفْظَةِ الَّتِي أَتَى بِهَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ أَنَّ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَهِيَ أَشْبَهُ بِالصِّحَّةِ مِنْ رِوَايَةِ مَنْ رَوَى وَكَانَ يَنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ، وَقَدْ قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: إِنَّ أُكَيْدِرَ دُومَةَ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَدِيَّةِ الْمُشْرِكِينَ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ مَتْنَهُ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اکیدر دومہ نے نبی ﷺ کو ایک جبہ تحفے میں دیا۔ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ وہ ریشمی تھا اور یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کی بات ہے۔ آپ ﷺ نے پہنا تو لوگوں نے تعجب کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”سعد کے رومال جنت میں اس سے بھی بہتر ہوں گے۔“
(ب) سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کی بات ہے۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اکیدر دومہ جو مشرکین میں سے تھے، انہوں نے نبی ﷺ کو تحفہ دیا۔
(ب) سعید بن ابی عروبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ریشم کی حرمت سے پہلے کی بات ہے۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اکیدر دومہ جو مشرکین میں سے تھے، انہوں نے نبی ﷺ کو تحفہ دیا۔