السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: ما ورد في الأقبية المزررة بالذهب باب: سونے کے بٹنوں والے قباء (چوغے) کے بارے میں جو مروی ہے
حدیث نمبر: 6105
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَو، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَقَالَ: " بَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا إِلَى أُكَيْدِرِ دَوْمَةَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِجُبَّةٍ مِنْ دِيبَاجٍ مَنْسُوجٍ بِالذَّهَبِ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ النَّاسَ يَمْسَحُونَهَا ⦗٣٨٨⦘ وَيَنْظُرُونَ إِلَيْهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ الْجُبَّةِ؟ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا رَأَيْنَا ثَوْبًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهُ، قَالَ: " فَوَاللهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ ".حافظ ثناء اللہ
واقد بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ فرمانے لگے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر اکیدر دومۃ کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے آپ ﷺ کی طرف ایک جبہ بھیجا جو سونے سے بنایا گیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کو پہنا تو لوگوں نے اس کو ہاتھ کے ساتھ چھونا شروع کر دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم اس جبہ سے تعجب کر رہے ہو؟“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے کبھی اس سے عمدہ کپڑا نہیں دیکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! سعد کے رومال جنت میں اس سے بھی عمدہ ہوں گے جس کو تم دیکھ رہے ہو۔“