حدیث نمبر: 6107
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُرْجَانِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ حُنَيْنٍ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " نَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِرَاءَةِ وَأَنَا رَاكِعٌ، وَعَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ وَالْمُعَصْفَرِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى.
حافظ ثناء اللہ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے مجھے ”رکوع کی حالت میں قرأت کرنے سے منع فرمایا ہے اور سونا اور زرد رنگ پہننے سے بھی منع فرمایا ہے“۔
حدیث نمبر: 6108
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ بَحِيرٍ، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: وَفَدَ الْمِقْدَامِ بْنُ مَعْدِي كَرِبَ عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَذَكَرَ قِصَّتَهُ، ثُمَّ قَالَ الْمِقْدَامُ: يَا مُعَاوِيَةُ إِنْ أَنَا صَدَقْتُ فَصَدِّقْنِي، وَإِنْ أَنَا كَذَبْتُ فَكَذِّبْنِي، قَالَ: فَافْعَلْ، قَالَ: " فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ لُبْسِ ⦗٣٨٩⦘ الذَّهَبِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: فَأَنْشُدُكَ بِاللهِ، هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ جُلُودِ السِّبَاعِ وَالرُّكُوبِ عَلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور اپنا قصہ ذکر کیا کہ: ”اے معاویہ! اگر میں سچ بولوں تو میری تصدیق کرنا، اور اگر جھوٹ بولوں تو میری تکذیب کرنا۔“ وہ فرمانے لگے: ”میں ایسا ہی کروں گا۔“ مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں، کیا آپ نے نبی ﷺ سے سنا، وہ سونا پہننے سے منع فرماتے تھے؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ مقدام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں، بتائیے کیا نبی ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا؟“ فرمایا: ”ہاں۔“ مقدام رضی اللہ عنہ نے کہا، پھر پوچھا: ”میں تجھے اللہ کی قسم دیتا ہوں، بتائیے کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ درندوں کے چمڑے کے لباس اور ان پر سوار ہونے سے منع فرماتے تھے؟“ فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 6109
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أنبأ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مِينَاءَ قَالَ: " كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لَا يَزَالُ يَدْعُونِي فَآتِي بِالْقِبَاءِ مِنْ أَقْبِيَةِ الشِّرْكِ، قَالَ: فَقَالَ: " انْزِعْ هَذَا الذَّهَبَ مِنْهَا ".
حافظ ثناء اللہ
حارث بن میناء فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھے بلاتے رہے، میں ان کے پاس مشرکین کی قباؤں میں سے ایک قبا لے کر آیا تو انہوں نے فرمایا: ان سے سونا اتار دو۔