السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: ما ورد في الأقبية المزررة بالذهب باب: سونے کے بٹنوں والے قباء (چوغے) کے بارے میں جو مروی ہے
حدیث نمبر: 6104
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَسَمَ أَقْبِيَةً مِنْ دِيبَاجٍ مَزْرُورَةً بِالذَّهَبِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مَخْرَمَةَ بْنَ نَوْفَلٍ أَبَا الْمِسْوَرِ، فَبَعَثَ ابْنَهُ الْمِسْوَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَاءَ فَقَامَ بِالْبَابِ، وَقَالَ: ادْعُهُ لِي، فَسَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ بِقَبَاءٍ مِنْهَا، فَاسْتَقْبَلَهُ وَقَالَ: " خَبَّأْتُ لَكَ هَذَا يَا أَبَا الْمِسْوَرِ، خَبَّأْتُ لَكَ هَذَا يَا أَبَا الْمِسْوَرِ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ، عَنْ حَمَّادٍ، هَكَذَا مُرْسَلًا. وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ. وَأَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ أَيُّوبَ مَوْصُولًا، إِلَّا أَنَّهُ لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الدِّيبَاجِ وَالْأَزْرَارِ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَاهُ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الدِّيبَاجِ وَالْأَزْرَارِ.حافظ ثناء اللہ
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ریشم کی قبائیں تقسیم کیں، جن کو سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کو بھی خبر ملی، جو مسور رضی اللہ عنہ کے والد ہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو نبی ﷺ کی طرف روانہ کیا۔ وہ آئے اور دروازے پر کھڑے ہو گئے اور عرض کیا: نبی ﷺ کو بلاؤ، تو نبی ﷺ نے یہ آواز سن لی۔ آپ ﷺ ایک قبا لے کر آئے اور فرمایا: ”اے ابو مسور! میں نے تیرے لیے چھپا کر رکھی ہوئی تھی“، دو مرتبہ فرمایا۔