أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ، أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ: " لَمَّا كَانَ بَيْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ مَا كَانَ تَيَسَّرُوا لِلْقِتَالِ، فَرَكِبَ خَالِدُ بْنُ الْعَاصِ إِلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَوَعَظَهُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَكْرٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمر بن عبد الرحمن کے غلام ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اور عنبسہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان بات ہوئی تو فرمایا: تم قتال کے لیے تیار ہو جاؤ، تو خالد بن عاص رضی اللہ عنہ سوار ہو کر عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے پاس گئے، وہ وعظ فرما رہے تھے تو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کیا آپ نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ شہید ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي قَالَ: " فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ ". قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي، قَالَ: " قَاتِلْهُ "، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي، قَالَ: " فَأَنْتَ شَهِيدٌ "، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: " فَهُوَ فِي النَّارِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ کا کیا حکم ہے اگر کوئی شخص میرا مال زبردستی لینا چاہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا مال اس کو نہ دو۔“ عرض کیا: اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو بھی اس سے لڑائی کر۔“ اس نے کہا: اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تو شہید ہے۔“ اس نے کہا: اگر میں اس کو مار دوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ آگ میں ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جو اپنے مال کی حفاظت میں مارا گیا وہ شہید ہے۔“
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ "..
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے مال کی حفاظت میں قتل کیا گیا وہ شہید ہے اور جو اپنے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہوئے مارا گیا وہ بھی شہید ہے اور جو اپنے خون کی حفاظت میں قتل کر دیا گیا وہ بھی شہید ہے۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " وَمَنْ أُصِيبَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ "، وَلَمْ يَذْكُرِ الدَّمَ. وَقَدْ ذَكَرَهُمَا جَمِيعًا بَعْضُ الرُّوَاةِ عَنْ أَبِي دَاوُدَ.
حافظ ثناء اللہ
ابراہیم بن سعد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو اپنے دین کی حفاظت میں قتل کیا گیا وہ بھی شہید ہے۔“