حدیث نمبر: 6064
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حِطَّانَ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ، فَقَالَ: سَلْ عَنْهُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَسَأَلْتُ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: سَلِ ابْنَ عُمَرَ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ " أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا فَلَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةَ ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَجَاءٍ.
حافظ ثناء اللہ
عمران بن حطان نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ریشم کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کریں، میں نے ان سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: آپ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کریں۔ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو وہ فرمانے لگے: مجھے ابو حفص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔“
حدیث نمبر: 6065
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ أَنَّهُ سَمَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا إِلَّا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِيٌ الصَّحِيحِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيِّ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”جو دنیا میں ریشم پہنے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“
حدیث نمبر: 6066
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ هُوَ ابْنُ زَكَرِيَّا الْمُقْرِئُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ، وَالْجُرْجَانِيُّ قَالَا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي نَجِيحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ:. اسْتَسْقَى حُذَيْفَةُ فَأَتَاهُ دِهْقَانُ بِإِنَاءِ فِضَّةٍ، فَأَخَذَهُ فَرَمَاهُ بِهِ، وَقَالَ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَشْرَبَ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَأَنْ نَأْكُلَ فِيهَا، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ، وَأَنْ نَجْلِسَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: " هُوَ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَكُمْ فِي الْآخِرَةِ ". قَالَ: فَأَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ قَالَ: وَحَدَّثَنِي الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، مِثْلَهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے پانی طلب کیا تو ایک کسان ان کے پاس چاندی کے برتن میں پانی لے کر آئے تو انہوں نے پکڑ کر پھینک دیا اور فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے ”ہمیں منع کیا ہے کہ ہم سونے اور چاندی کے برتن میں کھائیں اور پئیں اور موٹا اور باریک ریشم پہنیں اور اس پر بیٹھنے سے منع کیا ہے“ اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے لیے یہ دنیا میں ہے اور تمہارے لیے آخرت میں۔“
حدیث نمبر: 6067
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ سُلَيْمَانُ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: " أَمَرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ، وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ، أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ، وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ، وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ، وَنَهَانَا عَنِ الشُّرْبِ فِي الْفِضَّةِ؛ فَإِنَّهُ مَنْ يشْرَبْ فِيهَا فِي الدُّنْيَا لَا يَشْرَبُ فِيهَا فِي الْآخِرَةِ، وَعَنِ التَّخَتُّمِ ⦗٣٧٩⦘ بِالذَّهَبِ، وَرُكُوبِ الْمَيَاثِرِ، وَلِبَاسِ الْقِسِّيِّ، وَالْحَرِيرِ، وَالدِّيبَاجِ، وَالْإِسْتَبْرَقِ "..
حافظ ثناء اللہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات سے روکا ہے: ہمیں ”بیمار کی تیمارداری، جنازہ پڑھنے، سلام عام کرنے، دعوت قبول کرنے، چھینک کا جواب دینے، مظلوم کی مدد کرنے اور سچی قسم اٹھانے کا حکم دیا ہے اور ہمیں چاندی کے برتن میں پینے سے منع کیا، جو دنیا میں ان برتنوں میں پیے گا وہ آخرت میں نہ پی سکے گا، اور سونے کی انگوٹھی، ریشم کی زین، قسی کا بنا ہوا کپڑا اور موٹا و باریک ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔“
حدیث نمبر: 6068
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَلِيُّ بْنُ زَاطِيَّا، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، ثنا الشَّيْبَانِيُّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ،.
حافظ ثناء اللہ
ایضاً۔
حدیث نمبر: 6069
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ، فَذَكَرَهُ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: " وَجُلُوسٌ عَلَى الْمَيَاثِرِ ". أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أنبأ الْقَاسِمُ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، وَابْنُ أَبِي مَذْعُورٍ، وَيُوسُفُ، قَالُوا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، فَذَكَرَهُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
ابو اسحاق شیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ: ”ریشم کی سرخ رنگ کی زین پر بیٹھنا منع ہے۔“
حدیث نمبر: 6070
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ صَفْوَانَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ صَفْوَانَ يَقُولُ: " اسْتَأْذَنَ سَعْدٌ عَلَى ابْنِ عَامِرٍ وَتَحْتَهُ مُرَافِقٌ مِنْ حَرِيرٍ، فَأَمَرَ بِهَا فَرُفِعَتْ، فَدَخَلَ وَعَلَيْهِ مُطْرَفٌ مِنْ خَزٍّ، فَقَالَ لَهُ: اسْتَأْذَنْتَ عَلَيَّ وَتَحْتِي مُرَافِقٌ مِنْ حَرِيرٍ فَأَمَرْتُ بِهَا فَرُفِعَتْ، فَقَالَ لَهُ: " نِعْمَ الرَّجُلُ أَنْتَ يَا ابْنَ عَامِرٍ إِنْ لَمْ تَكُنْ مِمَّنْ قَالَ عَزَّ وَجَلَّ {أَذَهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا} [الأحقاف: ٢٠] وَاللهِ لَئَنْ أَضْطَجِعَ عَلَى جَمْرِ الْغَضَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَضْطَجِعَ عَلَيْهَا "..
حافظ ثناء اللہ
عبداللہ بن صفوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ابن عامر رضی اللہ عنہما سے اجازت طلب کی تو ان کے نیچے ریشم کا بچھونا تھا، انہوں نے اسے اٹھانے کا حکم دیا۔ پھر وہ داخل ہوئے تو اس پر ریشم کی چادر تھی، ابن عامر رضی اللہ عنہما کہنے لگے: اے سعد! آپ نے اجازت طلب کی تو میرے نیچے ریشم کا بچھونا تھا، میں نے اسے اٹھا دیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن عامر! آپ اچھے آدمی ہیں اگر ایسا نہ ہو جو اللہ رب العزت نے فرمایا: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا﴾ [سورة الأحقاف: 20] کہ تم نے اپنی نیکیوں کا صلہ دنیا میں حاصل کر لیا۔ پھر فرمایا: اللہ کی قسم! جھاؤ کی لکڑی کے کوئلے پر لیٹنا مجھے زیادہ محبوب ہے کہ اس پر لیٹوں۔
حدیث نمبر: 6071
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خَمِيرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ. وَزَادَ فِيهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا إِسْحَاقَ، إِنَّ هَذَا الَّذِي عَلَيْكَ شَطْرُهُ حَرِيرٌ وَشَطْرُهُ خَزٌّ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلِي جِلْدِي مِنْهُ الْخَزُّ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان اسی جیسی حدیث ذکر کرتے ہیں، اس میں کچھ الفاظ زائد ہیں کہ انہوں نے کہا: اے ابو اسحاق! جو آپ کے اوپر ہے اس کا کچھ حصہ ریشم ہے اور کچھ دوسرا، یعنی اون کا کپڑا۔ فرمایا: جو میرے جسم پر لگ رہا ہے، وہ اون کا کپڑا ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک جانور لایا گیا، اس کی زین ریشم کی تھی تو انہوں نے اس پر سوار ہونے سے انکار کر دیا۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ان کے پاس ایک جانور لایا گیا، اس کی زین ریشم کی تھی تو انہوں نے اس پر سوار ہونے سے انکار کر دیا۔