کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: اس شخص کا قول کہ دوسرا گروہ آنے پر اپنی پہلی رکعت پوری کرے، پھر دوسری رکعت امام کے ساتھ پڑھے، پھر پہلا گروہ اپنی دوسری رکعت پوری کرے، پھر سلام پھیرا جائے
حدیث نمبر: 6056
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْأَسْوَدِ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ: هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ قَالَ مَرْوَانُ: مَتَى؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: " عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ، وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبِّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً، وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ، وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ فَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى، وَرَكَعُوا مَعَهُ، وَسَجَدَ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلَامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً رَكْعَةً ". كَذَا قَالَ وَالصَّوَابُ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ. أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ، ثنا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا: ثنا أَبُو الْأَسْوَدِ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ. وَهَذَا بَيِّنٌ فِي تَفْسِيرِ الْحَدِيثِ وَلَعَلَّهُ أَرَادَ رَكْعَةً رَكْعَةً مَعَ الْإِمَامِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حافظ ثناء اللہ
(الف) مروان بن حکم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے نبی ﷺ کے ساتھ خوف کی نماز پڑھی ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ہاں! مروان نے پوچھا: کب؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غزوہ نجد میں نبی ﷺ نمازِ عصر کے لیے کھڑے ہوئے۔ ایک گروہ آپ ﷺ کے ساتھ کھڑا ہوا اور دوسرا دشمن کے مقابل اور ان کی پشت قبلہ کی طرف تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی اور ان سب نے بھی تکبیر کہی، جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے اور وہ جو دشمن کے مقابل تھے، پھر نبی ﷺ نے ایک رکوع کیا اور انہوں نے بھی جو آپ ﷺ کے ساتھ تھے اور دوسرے دشمن کے مقابل کھڑے رہے۔ پھر رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور وہ گروہ بھی جو آپ ﷺ کے ساتھ تھا۔ اب یہ دشمن کے سامنے کھڑے ہوئے اور جو دشمن کے سامنے کھڑے تھے وہ آ گئے۔ انہوں نے رکوع و سجود کیا اور نبی ﷺ کھڑے تھے۔ پھر وہ کھڑے ہوئے۔ پھر نبی ﷺ نے دوسرا رکوع کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ رکوع کیا۔ آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر وہ گروہ آیا جو دشمن کے سامنے کھڑا تھا، انہوں نے رکوع و سجود کیے اور نبی ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور جو ان کے ساتھ تھے انہوں نے بھی۔ نبی ﷺ نے اور ان سب نے سلام پھیرا تو نبی ﷺ کی دو رکعتیں تھیں اور ہر گروہ کی ایک ایک رکعت تھی۔
(ب) اس میں تفسیر ہے کہ امام کے ساتھ ایک ایک رکعت تھی۔
(ب) اس میں تفسیر ہے کہ امام کے ساتھ ایک ایک رکعت تھی۔
حدیث نمبر: 6057
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَصَدَعَ النَّاسُ صَدْعَيْنِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَطَائِفَةٌ تِجَاهَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ وَقَامُوا مَعَهُ، فَلَمَّا اسْتَوَى قَائِمًا رَجَعَ الَّذِينَ خَلْفَهُ وَرَاءَهُمُ الْقَهْقَرَى، فَقَامُوا وَرَاءَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَقَامُوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَامُوا فَصَلَّى بِهِمْ ⦗٣٧٦⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُخْرَى فَكَانَتْ لَهُمْ وَلِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَاءَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ فَصَلُّوا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسُوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ بِهِمْ جَمِيعًا ". كَذَا رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، وَرَوَاهُ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ نَوْفَلٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ. مَعَ اخْتِلَافٍ فِي لَفْظِ حَدِيثِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، لَيْسَ ذَلِكَ فِي لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَمَا رِوَايَتُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَذَكَرَهُ أَبُو الْأَزْهَرِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو نمازِ خوف پڑھائی تو ان کے دو گروہ بنا دیے۔ ایک گروہ نبی ﷺ کے پیچھے تھا اور دوسرا گروہ دشمن کے سامنے۔ آپ ﷺ نے اپنے پیچھے والوں کو ایک رکعت پڑھائی اور اس میں ان کو دو سجدے کروائے۔ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور وہ بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب آپ ﷺ سیدھے کھڑے ہو گئے تو وہ الٹے پاؤں لوٹے جو آپ ﷺ کے پیچھے تھے۔ وہ ان لوگوں کے پیچھے کھڑے ہو گئے جو دشمن کے سامنے تھے۔ اب دوسرا گروہ آ گیا۔ وہ نبی ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے اپنی ایک رکعت پڑھی اور رسول اللہ ﷺ کھڑے تھے۔ پھر وہ کھڑے ہوئے۔ ان کو نبی ﷺ نے دوسری رکعت پڑھائی۔ یہ ان کی پہلی تھی اور رسول اللہ ﷺ کی دوسری۔ پھر وہ دشمن کے سامنے ہو گئے۔ انہوں نے اپنی ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کیے۔ پھر وہ نبی ﷺ کے پیچھے رہے۔ پھر ان سب نے سلام پھیرا۔
حدیث نمبر: 6058
فَأَمَّا رِوَايَتُهُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذَاتِ الرِّقَاعِ، فَصَدَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَيْنِ، فَصُفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ، قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَلَّوْا خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا فَنَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ الثَّانِيَةِ، وَسَجَدُوا هُمْ لِأَنْفُسِهِمُ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَرَكَعَ بِهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا مَعَهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا، لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا ". حَدِيثُهُمَا سَوَاءٌ فِي الْمَعْنَى وَقَدْ تَزِيدُ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى بِكَلِمَةٍ أَوْ نَحْوِهَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو ذات الرقاع میں نمازِ خوف پڑھائی۔ نبی ﷺ نے ان کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تو ایک صف آپ ﷺ کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے سامنے تھی۔ آپ ﷺ نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا تو انہوں نے بھی «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا جنہوں نے آپ ﷺ کے پیچھے صف بنائی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو انہوں نے بھی رکوع کیا۔ آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو انہوں نے سجدہ کیا۔ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، پھر آپ ﷺ بیٹھے رہے۔ پھر انہوں نے دوسری رکعت پڑھی اور وہ کھڑے ہوئے پھر اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پاؤں چلے یہاں تک کہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے۔ پھر دوسرا گروہ آیا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بنائی۔ پھر انہوں نے «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ کہا۔ پھر انہوں نے رکوع کیا۔ پھر نبی ﷺ نے دوسرا سجدہ کیا۔ انہوں نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کیا۔ پھر نبی ﷺ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے تو انہوں نے دوسرا سجدہ کیا۔ پھر دونوں گروہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے نبی ﷺ کے پیچھے صفیں بنائیں، نبی ﷺ نے ایک رکوع کیا تو ان سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو ان سب نے بھی سجدہ کیا، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا تو انہوں نے بھی سر اٹھایا، یہ تمام نبی ﷺ نے جلدی کیا، آپ ﷺ نے تخفیف میں کوتاہی نہیں کی۔ اپنی طاقت کے مطابق ہلکی نماز پڑھائی، پھر نبی ﷺ نے سلام پھیرا تو انہوں نے بھی سلام پھیرا، پھر نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور یقیناً لوگ آپ ﷺ کی تمام نماز میں شریک رہے۔