السنن الكبرى للبيهقي
كتاب صلاة الخوف— خوف کی نماز کا بیان
باب: من له أن يصلي صلاة الخوف باب: کن لوگوں کو نمازِ خوف پڑھنے کی اجازت ہے
حدیث نمبر: 6060
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُقْرِئُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي قَالَ: " فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ ". قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي، قَالَ: " قَاتِلْهُ "، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي، قَالَ: " فَأَنْتَ شَهِيدٌ "، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ؟ قَالَ: " فَهُوَ فِي النَّارِ ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ کا کیا حکم ہے اگر کوئی شخص میرا مال زبردستی لینا چاہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنا مال اس کو نہ دو۔“ عرض کیا: اگر وہ میرے ساتھ لڑائی کرے تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو بھی اس سے لڑائی کر۔“ اس نے کہا: اگر وہ مجھے قتل کر دے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو تو شہید ہے۔“ اس نے کہا: اگر میں اس کو مار دوں تو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ آگ میں ہے۔“